Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
414 - 1087
 رُو ہو کر بول وبراز کرنے سے منع فرمایا۔‘‘  (۱)
	کسی صحابی سے ایک اعرابی کا جھگڑ اہو گیا،کہنے لگا: میرا خیال ہے کہ تمہیں پیشاب کرنے کا طریقہ بھی اچھی طرح نہیں آتا تو صحابی نے فرمایا: ’’مجھے اس میں مہارت حاصل ہے کہ آبادی سے دور جاتا ہوں ، ڈھیلے گن کر رکھتا ہوں ، گھاس اکٹھی کرکے سامنے رکھتا ہوں ، ہوا کی طرف پیٹھ کرتا ہوں ، ہرن کی طرح (پنجوں پر دباؤ ڈال کر) بیٹھتا ہوں ، شترمرغ کی طرح پچھلے مقام کو اوپر اٹھاتا ہوں ۔‘‘
	انسان کو پردے کا اہتمام کرکے کسی شخص کے قریب استنجا وغیرہ کرنا جائزہے کہ ’’انتہائی باحیا ہونے کے باوجود حضور نبی ٔکریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امت کی رہنمائی کے لئے ایسا کیا۔‘‘  (۲)
استنجا کا طریقہ:
	تین ڈھیلوں سے اپنی پیشاب گاہ کو صاف کرے اگر ان سے صاف ہو جائے تو کافی ہے ورنہ چوتھا پتھر استعمال کرے اور صفائی حاصل ہو جائے تب بھی پانچواں پتھر استعمال کرے کیونکہ صاف کرنا واجب ہے اور طاق پتھروں کا استعمال سنت ہے کہ سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْیُوْتِریعنی :جو شخص پتھروں کا استعمال کرے تو وہ طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔‘‘  (۳)
 پتھر استعمال کرنے کا طریقہ:
	پتھر بائیں (الٹے)ہاتھ میں لے اور پیشاب گاہ کے اگلے حصے پر نجاست کی جگہ سے پہلے رکھے اورپونچھتا ہوا پیچھے کی طرف لے جائے۔ پھر دوسرا پتھر لے اور اسی طرح پچھلے حصّے پر رکھ کر آگے کی طرف لے آئے۔ پھر تیسرا پتھر لے کر اسے ایک بار شرمگاہ کے اردگرد پھیرے اگر پھیرنا مشکل ہو تو پونچھتے ہوئے آگے سے پچھلی طرف لے جائے تو بھی کافی ہے۔ پھر دائیں (سیدھے ) ہاتھ میں بڑا سا پتھر لے کر عضو ِمخصوص کو بائیں ہاتھ سے پکڑ کراس پر پتھر کو رگڑے اور عضو ِ مخصوص کو حرکت دے اور تین دفعہ ایک ہی پتھر سے تین جگہوں سے پونچھے یا تین پتھر وں سے پونچھے یا دیوار کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الاستطابۃ، الحدیث:۲۶۲، ص۱۵۴۔
2…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین، الحدیث:۲۷۳، ص۱۵۸۔
3…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الایتار فی الاستنثار…الخ، الحدیث:۲۳۷، ص۱۴۶۔