Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
413 - 1087
چاہتا ہوں ۔‘‘  (۱)
بیت الخلا سے نکلنے کے بعدکی دُعا:
(۱۹)…نکلنے کے بعد یہ دُعا پڑھے: ’’اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّیْ مَا یُؤْذِیْنِیْ وَاَ بْقٰی عَلٰی مَا یَنْفَعُنِییعنی: اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا شکر ہے کہ اس نے مجھ سے اذیت کو دُور کیا اور مجھے فائدہ دینے والی چیز کو باقی رکھا۔‘‘  (۲)
(۲۰)…استنجا کے لئے بیٹھنے سے پہلے ڈھیلوں کو گن لے۔ (۲۱)…قضائے حاجت کی جگہ پانی سے استنجا نہ کرے۔ (۲۲)…استنجا کرنے کے بعداستبرا کرلے (یعنی پیشاب کرنے کے بعد ایساکام کرنا کہ اگر کوئی قطرہ رکا ہوتو گر جائے اور یہ واجب ہے) اس کے تین طریقے ہیں :کھانسنے، عضو مخصوص کوتین بارجھاڑنے اور عضو ِ مخصوص کے نچلے حصے پر ہاتھ پھیرنے سے ۔ نیزاس معاملے میں زیادہ سوچ بچار نہ کرے کہ اس سے وسوسے پیدا ہوں گے اور اس پر معاملہ دشوار ہوجائے گا۔ لہٰذا استبرا کے بعدجو تری وغیرہ محسوس کرے اسے باقی ماندہ پانی خیال کرے۔ اگر یہ بات اسے اذیت دیتی ہوکہ وسوسے پھر بھی دور نہ ہوں تو میانی(پاجامے کا وہ حصہ جو پیشاب گاہ کے قریب ہوتا ہے اس) پر پانی کے چھینٹے مارے تاکہ اس کے دل میں یہ بات پختہ ہوجائے اور وسوسوں کی وجہ سے اس پر شیطان مسلَّط نہ ہو۔ حدیث ِ پاک میں بھی ہے کہ ’’حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسے ہی کیا یعنی(میانی پر) پانی کے چھینٹے مارے۔‘‘  (۳)
	پہلے کے لوگوں میں سے جو شخص استنجا سے جلدی فارغ ہوتا وہ ان میں زیادہ فقیہ ہوتا تھاکیونکہ استنجا میں وسوسہ فقاہت کی کمی پردلالت کرتا ہے۔
ہڈی اور گوبر سے استنجا کرنے کی ممانعت:
	حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں ہر چیز سکھائی حتی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم ہڈی اور گوبر سے استنجا نہ کریں اور ہمیں قبلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر، النضر بن انس عن زید بن ارقم، الحدیث:۵۰۹۹، ج۵، ص۲۰۴، باختصارٍ۔
	المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الطہارات، مایقول الرجل اذا دخل الخلاء، الحدیث:۵، ج۱، ص۱۲۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الطہارات، مایقول اذا خرج من المخرج، الحدیث:۱، ج۱، ص۶۔
3…سنن ابن ماجہ،کتاب الطہارۃ، باب ماجاء فی النضح بعد الوضو ء، الحدیث:۴۶۱، ج۱، ص۲۶۹۔