(۱۵)…غسل خانے میں پیشاب نہ کرے۔
وسوسے پیدا ہونے کا سبب:
حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’عام وسوسے اسی (یعنی غسل خانے میں پیشاب کرنے) سے ہوتے ہیں (۱)۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : غسل خانے میں پیشاب کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ اس پر سے پانی بہہ جائے۔
نیزپیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں وضو کرے گا کیونکہ عام وسوسے اسی سے ہوتے ہیں ۔‘‘ (۳)
حضرتِ سیِّدُناابن مبارَک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’جاری پانی میں پیشاب کرنے میں حرج نہیں (۴)۔‘‘
(۱۶)…استنجاخانے میں ایسی چیز ساتھ نہ لے جائے جس پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّیا رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نام مبارک ہو۔ (۱۷)…استنجاخانے میں ننگے سر نہ جائے۔
بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے کی دُعا:
(۱۸)…استنجاخانے میں داخل ہونے سے پہلے یہ دُعا پڑھے: ’’بِسْمِ اللّٰہِ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ الْخَبِیْثِ الْمُخْبِثِ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمیعنی: اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے نام سے شروع کرتا اور مردود پلید خبیث شیطان سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی پناہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مفسرشہیر ، حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح ، ج 1،ص266پر اس حدیث ِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :اگر غسل خانہ کی زمین پختہ ہو اور اس میں پانی خارج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حرج نہیں اگرچہ بہتر ہے کہ نہ کرے ، لیکن اگر زمین کچی ہو اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہوتو پیشاب کرنا سخت برا ہے کہ زمین نجس ہو جائے گی ، اور غسل یا وضو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔
2…سنن ابن ماجہ،کتاب الطہارۃ، باب کراھیۃ البول فی المغتسل، الحدیث:۳۰۴، ج۱، ص۱۹۴۔
3…سنن ابن ماجہ،کتاب الطہارۃ، باب کراھیۃ البول فی المغتسل، الحدیث:۳۰۴، ج۱، ص۱۹۴۔
4…جاری پانی میں پیشاب، پاخانہ کرنا مکروہ ہے۔ (ماخوذازبہارشریعت،ج۱،حصہ دوم،ص۴۰۹)