باب نمبر2: نجاست حکمی سے پاکی حاصل کرنا
اس میں وضو، غسل اور تیمم کا بیان ہے۔ ان سے پہلے استنجا کا بیان ہے۔
ہم اس کی سنتوں اور آداب کے ساتھ کیفیت بیان کریں گے اور اسباب وضو اور قضائے حاجت کے آداب سے ابتدا کریں گے۔
قضائے حاجت کے ا ٓداب
قضائے حاجت کرنے والے کو چاہئے کہ ان آداب کو مد نظر رکھے: (۱)…قضائے حاجت کے لئے لوگوں کی نظروں سے دور صحرا میں جائے۔ (۲)…کوئی چیز پائے تو اس کے ساتھ پردہ کرلے۔ (۳)…بیٹھنے کے بالکل قریب ہونے سے پہلے شرمگاہ کو نہ کھولے۔ (۴)…سورج یا چاند کی طرف رخ نہ کرے۔ (۵)…قبلہ کی طرف نہ منہ کرے نہ پیٹھ البتہ اگر گھر میں ہوتو حرج نہیں (۱) لیکن گھر میں بھی بوقتِ قضائے حاجت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرنا افضل ہے اور اگر صحرا میں اپنی سواری کو پردہ بنا لے تو جائز ہے اسی طرح دامن سے بھی پردہ کر سکتا ہے۔ (۶)…ایسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احناف کے نزدیک گھرمیں ہوں یاصحرا میں کہیں بھی قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی سمت منہ یا پیٹھ نہ ہو۔ چنانچہ، دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلد اول صفحہ 408پر صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :پاخانہ یا پیشاب پھرتے وقت یا طہارت کرنے میں نہ قبلہ کی طرف منھ ہو نہ پیٹھ اور یہ حکم عام ہے چاہے مکان کے اندر ہو ، یا میدان میں اور اگر بھول کر قبلہ کی طرف منھ یا پشت کر کے بیٹھ گیا ، تو یاد آتے ہی فوراً رخ بدل دے اس میں امید ہے کہ فوراً اس کے لئے مغفرت فرمادی جائے۔
نیزدعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 26صفحات پر مشتمل رسالے غسل کا طریقہ صفحہ11تا 12پر ہے کہ ’’اگر آپ کے حمام میں فَوَّارہ (SHOWER)ہو تو اسے اچھی طرح دیکھ لیجئے کہ اس کی طرف منہ کرکے ننگے نہانے میں منہ یا پیٹھ قبلے شریف کی طرف تو نہیں ہورہی ۔ استنجا خانے میں بھی اسی طرح احتیاط فرمائیے ۔ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ ہونے کا معنی یہ ہے کہ 45دَرَجے کے زاوِیے کے اندر اندر ہو ۔ لہٰذا یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ 45ڈگری کے زاوِیے (اینگل ANGLE)کے باہَر ہو ۔ اس مسئلے سے اکثر لوگ ناواقِف ہیں ۔ مِہربانی فرماکر اپنے گھر وغیرہ کے ڈبلیو ۔ سی(W.C) اور فَوَّارے کا رُخ اگرغلَط ہو تو اس کی اصلاح فرما لیجئے۔ زِیادہ اِحتِیاط اس میں ہے کہ W.C قبلے سے 90دَرَجے پر یعنی نَماز پڑھنے میں سلام پھیرنے کے رُخ پر دیجئے۔ مِعمار عُموماً تعمیراتی سَہولت اور خوبصورتی کا لحاظ کرتے ہیں آدابِ قبلہ کی پروا ہ نہیں کرتے۔ مسلمانوں کو مکان کی غیر واجبی بہتری کے بجائے آخِرت کی حقیقی بہتری پر نظر رکھنی چاہئے۔