کے لئے اس راستے سے پھرنے کی گنجائش نہیں ۔
علم معاملہ کی اقسام:
علم مُعاملہ کی دو قسمیں ہیں :(1)…علمِ ظاہر یعنی ظاہری اعضاء کے اعمال کا علم اور (2)…علمِ باطن یعنی دل کے اعمال کا علم۔ ظاہری اعضاء سے صادر ہونے والا عمل یا عبادت ہو گا یا عادت اور دل جو حواس سے پردے میں ہے اس پر عالَمِ ملکوت سے جاری ہونے والا عمل محمود ہو گا یا مذموم۔ لہٰذا اس علم کی دوقسمیں ہوئیں ظاہر و باطن۔ ظاہری حصہ جو اعضاء سے متعلق ہے اس کی دوقسمیں ہیں :(۱)عادت (۲)عبادت۔باطنی حصّہ جو دل کے احوال اور نفس کے اخلاق سے متعلِّق ہے اس کی بھی دو قسمیں ہیں :(۱) مذموم (۲) محمود ۔ چنانچِہ، مجموعی طور پر یہ چارقسمیں ہوئیں ۔ علمِ معامَلہ میں اِن اقسام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری وجہ: یہ ہے کہ میں نے طلبا میں اُس فقہ کی سچی رغبت دیکھی جو ان لوگوں کے نزدیک صحیح ہے جوخوف خدا نہیں رکھتے۔ وہ اسے فخر کرنے اور مقابَلوں میں اپنا مقام ومرتبہ ظاہر کرنے کے لئے زِرہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اس کی بھی چارقسمیں ہیں ۔ محبوب کے لباس میں ملبوس بھی محبوب ہوتا ہے اس لئے میں نے کتاب کو فقہ کی ترتیب پر لانے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کی تاکہ لوگوں کے دلوں کو آہستہ آہستہ اس کی طرف مائل کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے امرا کے دلوں کاطب کی طرف میلان چاہا انہوں نے اپنی کتابوں کو ستاروں کی تقویم کی صورت میں جدوَلوں اور ہندسوں میں لکھا اور اس کا نام تقویمِ صحت رکھاتاکہ اس جنس سے امرا کے اُنس کے باعث انہیں اس کے مطالعہ کی طرف متوجہ کریں اوروہ علم کہ جس میں ابدی زندگی کا فائدہ ہو اس کی طرف لوگوں کے دلوں کو کھینچنے کا حیلہ اس حیلے سے اہم ہے جو طب کی طرف کھینچتا ہے کیونکہ طب تو صرف جسمانی صحت کا فائدہ دیتی ہے جبکہ علم دلوں اور روحوں کا علاج ہے اس کے ذریعے انسان ابدی زندگی تک پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا اِس کے مقابَلے میں طب کی کیا حیثیت کہ جس کے ذریعے صرف جسمانی علاج ہوتا ہے اور جسم تو کچھ ہی دنوں میں خراب ہو جائیں گے۔ ہم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے توفیق، ہدایت اور صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کا سوال کرتے ہیں وہی کریم اور جواد ہے ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭