تیسری فصل: نجاست زائل کرنے کے طریقے
نجاست کی دو قسمیں ہیں :(۱)…حکمیہ (۲)…حقیقیہ۔نجاست حکمیہ:وہ ہے کہ جس کا محسوس جسم نہ ہواس میں تمام جگہوں پر پانی بہانا کافی ہے اورنجاست حقیقیہ: وہ ہے کہ جس کا محسوس جسم ہو اس کے عین کو زائل کرنا ضروری ہے اور ذائقہ کا باقی رہنا عین کے باقی رہنے پر دلالت کرتا ہے اسی طرح رنگ کا باقی رہنا بھی۔البتہ جو نجاست جسم سے مل جائے تو کھرچنے کے بعد (جو زائل نہ ہو) معاف ہے۔ بو کا باقی رہنا بھی عین نجاست کی بقا پر دلالت کرتا ہے اس سے صرف اتنا معاف ہے کہ بو اتنی تیز ہو کہ اس کا ازالہ مشکل ہو۔ پس رنگ کے معاملے میں کئی بار مَلنا اور ہر بار نچوڑنا کھرچنے کے قائم مقام ہو گا اور وسوسوں کو ختم کرنے کے لئے یہ یقین رکھنا ضروری ہے کہ اشیاء کو پاک پیدا کیا گیا ہے لہٰذا جس چیزپر نجاست نظر نہ آئے اور یقینی طور پر اس کا ناپاک ہونا بھی معلوم نہ ہوتو اس کے ساتھ نماز پڑھناجائز ہے اور نجاستوں کی مقدار مقرَّرکرنے کے لئے استنباط نہ کئے جائیں ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
ام سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لیے کنواں
حضرت سیِّدُنا سعد بن عبادہ رَضَیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری ماں انتقال کرگئی ہیں (میں ان کی طرف سے صدقہ کرنا چاہتا ہوں ) کون سا صدقہ افضل رہے گا؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’پانی۔‘‘ چنانچہ، انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا: ’’یہ ام سعد رَضَیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے لئے ہے۔‘‘(سنن ابی داؤد،الحدیث:۱۶۸۱،ج۲،ص۱۸۰)