Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
408 - 1087
دوسری فصل:		نجاست زائل کرنے والی چیز
	نجاست زائل کرنے والی چیز کی دوقسمیں ہیں : (۱)…یا تووہ چیز جامد ہوگی (۲)…یا مائع(بہنے والی)۔ جامدجیسے استنجا کے پتھر جو پاک بھی کرتے ہیں اور خشک بھی ہیں بشرطیکہ وہ سخت، پاک، خشک کرنے والے ہوں اور قابلِ احترام نہ ہوں ۔
	مائعات میں سے صرف پانی نجاست کو زائل کرتا ہے اور ہر پانی نہیں بلکہ ایسا پاک پانی جو کسی غیر ضروری چیز کے ملنے سے بدل نہ گیا ہو۔ اگر نجاست کے ملنے سے پانی کے تین اوصاف ذائقہ ، رنگ اور بو میں سے کوئی دو تبدیل ہو جائیں تو پانی ناپاک ہوجائے گا(۱)(اس کے بعد مصنفعَلَیْہِ الرَّحْمَہنے پانی کی پاکی و ناپاکی کے بارے میں ایک دقیق وپیچیدہ بحث فرمائی ہے۔ اہل علم اصل کتاب کی طرف رجوع فرمائیں ۔ اس بحث کے آخر میں فرماتے ہیں :) اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ ہر مائع چیز کی خاصیت ہے کہ اپنے اندر گرنے والی چیز کو اپنی صفت پر لے آتی ہے اور وہ چیز اس میں مغلوب ہوجاتی ہے جیسے تم کتے کو دیکھتے ہو کہ وہ نمک(کی کان) میں گر کر نمک ہوجاتا ہے تونمک بن جانے نیز کتا ہونے کا وصف زائل ہونے کے سبب اسے پاک قرار دیا جا تا ہے۔ اسی طرح سرکہ اوردودھ پانی میں مل جائیں اور کم مقدار میں ہوں تو ان کی صفت باطل ہوجاتی ہے، پانی کی صفت کا ہی تصور ہوتا ہے اور ان میں پانی کی طبیعت آجاتی ہے۔ البتہ زیادہ ہو اور غالب آجائے تو الگ بات ہے او راس کا غلبہ اس کے ذائقہ، رنگ اور بو کے غلبہ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی معیار ہے۔ شریعت نے قوی (تیز جاری)پانی کی نجاست کو زائل کرنے کے سلسلے میں اسی معیار کی طرف اشارہ کیا ہے اور بہتریہی ہے کہ اسی پر اعتماد کیا جائے۔ پس اس سے حرج دور ہوتا ہے اور اسی سے اس کی صفت ِ طہور (یعنی پاک کرنے والا ہونا) ظاہر ہوجاتی ہے کیونکہ جب یہ اس پر غالب ہوتا ہے تو اسے پاک کر دیتا ہے۔
{…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…یہ حکم مائے کثیرکا ہے جبکہ مائے قلیل یعنی تھوڑا پانی جو کہ دَہ در دَہ سے کم ہے اُس میں کوئی نَجاست مل جائے تو وہ پانی نجس یعنی ناپاک ہے۔(ماخوذازنورالایضاح مع مراقی الفلاح،ص۳۰)