Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
407 - 1087
{4}…پِسّو کا خون تھوڑا ہو یا زیادہ ،معاف ہے۔ البتہ یہ کہ وہ عادت سے بڑھ جائے خواہ وہ تمہارے کپڑے میں لگے یا کسی دوسرے کے کپڑے میں لگے اور تم اُسے پہن لو۔
{5}…پھنسیوں کا بہنے والاخون اور پیپ(۱) وغیرہ معاف ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے چہرے پر پھنسی تھی اس سے خون نکل آیاتو آپ نے اسے دھوئے بغیر نماز پڑھ لی۔وہ زخم جو ناسور کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں ان سے نکلنے والی رطوبت اور پچھنے لگوانے سے نکلنے والے خون کا بھی یہی حکم ہے۔ مگر وہ پھنسیاں جو کبھی کبھی نکلتی ہیں ان کا حکم استحاضہ(۲) کے خون جیسا ہے۔یہ ان پھنسیوں کے حکم میں نہیں ہوں گی جن سے انسان کسی حال میں پاک نہیں رہ سکتا۔ 
	مذکورہ پانچ قسم کی نجاستوں میں شریعت کی رعایت سے آپ نے جان لیا کہ طہارت کا معاملہ کتنا آسان ہے اور اس میں پیدا ہونے والے وسوسوں کی کوئی حقیقت نہیں ۔ 

{…تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہ 	اَسْتَغْفِرُاللّٰہ…}

{…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلد اول صفحہ 304 پر صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں کہ ’’خون یا پیپ یا زرد پانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وضو جاتارہے گا اگر صرف چمکا یا ابھرا اور بہا نہیں جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون ابھر یا چمک جاتا ہے یا خلال کیا یا مسواک کی یا انگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایا یا ناک میں انگلی ڈالی اس پر خون کی سرخی آگئی وہ خون بہنے کے قابل نہ تھا تو وضو نہیں ٹوٹا۔(فتاوی ہندیہ ،کتاب الطہارۃ، الباب الاول فی الوضو،الفصل الخامس،ج ۱،ص۱۰)
2…وہ خون جو عورت کے آگے کے مقام سے کسی بیماری کے سبب نکلے تو اسے استحاضہ کہتے  یں ۔(ماخوذازبہارِشریعت،ج۱،حصّہ۲،ص۳۷۱)