Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
406 - 1087
اصل ہو وہ پا ک ہے جیسے مَنِی(۱)اور انڈہ کہ پاک ہیں اور تمام حیوانات کی پیپ،خون، گوبر اور پیشاب نجس ہیں ۔ ان نجاستوں میں سے پانچ کے علاوہ کسی میں سے کچھ بھی معاف نہیں اگرچہ تھوڑا ہو ( وہ پانچ یہ ہیں ):
{1}…پتھروں سے استنجا کرنے کے بعدنجاست کا اثر جب تک مخرج سے تجاوز نہ کرے، معاف ہے۔
{2}…راستوں کی کیچڑ اور گوبر کاغبار معاف ہے اگر اتنی نجاست کے لگے ہونے کا یقین ہو جس سے بچنا مشکل ہے اور یہ وہ مقدار ہے کہ اس شخص کے بارے میں یہ نہ کہا جائے کہ اِس نے اپنے آپ کو کیچڑ میں لتھیڑا ہے یا یہ اُس میں گِرا ہے۔
{3}…موزے کے پیچھے لگی ہوئی وہ نجاست(۲) کہ اس سے راستہ خالی نہیں ہوتا لہٰذا رگڑنے کے بعد کچھ رہ جائے تو وہ ضرورت کے تحت معاف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احناف کے نزدیک مَنی ناپاک ہے۔ (ماخوذازبہارِشریعت،ج۱،حصّہ۲،ص۳۹۰)منی وہ گاڑھا سفید پانی ہے جس کے نکلنے کی وجہ سے ذَکر کی تُندی اور انسان کی شہوت ختم ہو جاتی ہے۔(تحفۃ الفقہاء،ج۱، ص۲۷)
2…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 40صفحات پرمشتمل رسالہ’’ کپڑے پاک کرنے کا طریقہ مع نجاستوں  کا بیان ‘‘ میں شیخِ طریقت امیراہلسنّت بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نقل فرماتے ہیں :نجاست کی دو قسمیں ہیں :(۱)نجاست ِ غَلِیظہ(غَ۔لِی۔ظَہ)(۲)نجاست ِ خفیفہ (خَ۔ فِی۔فَہ)۔انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غُسل یا وُضو واجِب ہو نَجاستِ غلیظہ ہے جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتا خون، پیپ،منہ بھرقے ، حَیض و نِفاس و اِستحاضے کا خون،مَنی،مَذی، وَدی۔نجاست غَلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن پر ایک دِرہَم سے زیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بغیرپاک کیے اگر نَماز پڑھ لی تو نَماز نہ ہوگی۔ اور اس صورت میں جان بوجھ کر نَماز پڑھنا سخت گناہ ہے، اور اگر نَماز کوہلکا جانتے ہوئے اس طرح نَماز پڑھی تو کفر ہے۔اورجن جانوروں کا گوشت حلال ہے، (جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، اونٹ وغیرہا ) ان کا پیشاب ،نیز گھوڑے کا پیشاب اور جس پرند کا گوشت حرام ہے، خواہ شکاری ہو یا نہیں ، (جیسے کوّا، چیل، شِکرہ، باز) اس کی بِیٹ نَجاستِ خفیفہ ہے۔نجاست خفیفہ کا حکم یہ ہے کہ کپڑے کے جس حصّے یا بدن کے جس عُضو میں لگی ہے اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے تومُعاف ہے، مَثَلًا آستین میں نجاست ِ خَفیفہ لگی ہوئی ہے تو اگر آستین کی چوتھائی سے کم ہے یا دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم ہے یا اسی طرح ہاتھ میں لگی ہے تو ہاتھ کی چوتھائی سے کم ہے تو مُعاف ہے یعنی اس صورت میں پڑھی گئی نماز ہوجائے گی اور البتَّہ اگر پوری چوتھائی میں لگی ہو توبغیر پاک کئے نماز نہ ہوگی۔مزید فرماتے ہیں :’’اورپیشاب کی نہایت باریک چھینٹیں سُوئی کی نوک برابر کی بدن یا کپڑے پر پڑ جائیں ، تو کپڑا اور بدن پاک رہے گا۔‘‘(ماخوذاز نجاست کا بیان مع کپڑے پاک کرنے کا طریقہ)  مزید معلومات کے لئے ’’نجاست کا بیان مع کپڑے پاک کرنے کا طریقہ‘‘نامی رسالہ کا مطالعہ فرمالیجئے ۔