باب نمبر 1: نجاست سے طہارت حاصل کرنا
اس میں تین فصلیں ہیں : (۱)…یہ مد نظر رکھنا کہ کس چیز کودور کیا جارہا ہے (۲)…کس چیز سے دور کیا جارہا ہے اور (۳)…دور کرنے کا طریقہ کیا ہے۔
پہلی فصل: زائل کی جانے والی نجاست کا بیان
اشیاء تین قسم کی ہیں :
(۱)…جمادات (۲)…حیوانات اور (۳)…حیوانات کے اجزا۔ شراب اور ہر جھاگ والی نشہ آور چیز کے سوا تمام جمادات پاک ہیں ۔کتے اور خنزیر اور ان دونوں یا کسی ایک سے پیدا ہونے والوں کے سوا تمام حیوانات پاک ہیں ۔لیکن جب یہ مر جائیں تو پانچ کے علاوہ تمام حیوانات ناپاک ہو جاتے ہیں : (۱)…انسان (۲)…مچھلی (۳)…مکڑی (۴)…سیب کا کیڑا اور (۵)…کھائی جانے والی ہر وہ چیز جو اپنی اصلی حالت پر نہ رہے اور ہر حیوان جس میں بہنے والا خون نہ ہو جیسے مکھی، گبریلا(یہ ایک کیڑا ہے جو گوبر میں ہوتا ہے) وغیرہ۔ لہٰذا ان میں سے کسی کے پانی میں گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
حیوانات(۱) کے اجزا کی اقسام اور ان کا حکم:
جہاں تک حیوانات کے اجزا کا معاملہ ہے تو ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)…وہ جنہیں کاٹا جاتا ہے اور ان کا حکم وہی ہے جو مردہ کا ہے۔بال کاٹنے اور (جانور کے) مر نے سے نجس نہیں ہوتے جبکہ ہڈی نجس ہوجاتی ہے۔ (۲)…اندر سے نکلنے والی رطوبات: جو تبدیل نہیں ہوتیں اور نہ ہی ان کا کوئی ٹھکانا ہے وہ پاک ہیں جیسے آنسو، پسینہ، تھوک اور رینٹھ اور جن کا کوئی ٹھکانا ہے اور وہ بدل جاتی ہیں تو ناپاک ہیں (جیسے خون ، پیشاب اور گندگی وغیرہ)۔ البتہ! جو حیوان کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ذبح شرعی سے اون کا گوشت اور چربی اور چمڑا پاک ہو جاتا ہے مگر خنزیر کہ اس کا ہر جز نجس ہے اور آدمی اگرچہ طاہر ہے اس کا استعمال ناجائز ہے۔(درمختار)ان جانوروں کی چربی وغیرہ کو اگر کھانے کے سوا خارجی طور پر استعمال کرنا چاہیں تو ذبح کر لیں کہ اس صورت میں اوس کے استعمال سے بدن یا کپڑا نجس نہیں ہوگا اور نجاست کے استعمال کی قباحت سے بھی بچنا ہوگا۔(بہارِشریعت،ج۳،حصّہ۱۵،ص۳۲۷)