Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
403 - 1087
ہوئے چمڑے پر نماز پڑھ لیتے تھے ان میں سے کسی کے بارے میں معلوم نہیں کہ اس نے طہارت ونجاست کے معاملے میں دُھلے ہوئے اور دباغت کئے ہوئے کپڑوں میں فرق کیا ہو بلکہ جب وہ خود نجاست دیکھتے تو اس سے اجتناب کرتے اور دقیق(یعنی گہرے اور مشکل)احتمالات کی تلاش میں نہیں رہتے تھے بلکہ ریا وظلم کی باریکیوں کے بارے میں سوچتے تھے۔
فضول خرچی پر مددگار:
	ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے رفیقِ سفر نے ایک مکان کے بلند وبالادروازے کی طرف دیکھا تو آپ نے فرمایا: ’’ایسا نہ کر کیونکہ اگر لوگ اس مکان کی طرف نہ دیکھتے تو مکان والا اس پر اتنا اسراف نہ کرتا۔‘‘ پس اس کی طرف دیکھنے والا بھی فضول خرچی پر مددگار ہے۔
	 اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام اپنے ذہنوں کو اس طرح کی باریکیوں میں استعمال کرتے تھے ،نجاست کے احتمالات کے متعلق غور وفکر نہیں کرتے تھے۔
دُنْیاوَمَافِیْہا سے افضل:
	اگر کسی عالم کو کوئی ایساعام شخص ملے جو احتیاطا ًاس کے کپڑے دھوئے تو افضل ہے کہ یہ سستی کی بنسبت بہتر ہے اور وہ عام شخص اس دھونے کے سبب نفع حاصل کرتا ہے کیونکہ وہ برائیوں کا حکم دینے والے نفس کو فی نفسہٖ جائز کام میں مشغول رکھتا ہے۔ لہٰذا اس حال میں وہ گناہوں سے رکا رہتا ہے کہ اگر نفس کسی کام میں مشغول نہ ہو تو وہ انسان کو (گناہوں میں ) مشغول کر دیتا ہے اور اگر اس عام شخص کا مقصد عالم کا قرب حاصل کرنا ہو تو یہ اس کے نزدیک افضل عبادت ہے اور عالم کا وقت اس طرح کے کاموں میں استعمال ہونے سے افضل ہے تو یوں یہ وقت محفوظ رہے گا اور عام شخص کا افضل وقت وہ ہے جو اس طرح کے کاموں میں صرف ہو اور اسے ہر طرف سے وافر بھلائی ملے گی۔
	 اس مثال سے اس قسم کے دوسرے اعمال، ان کے فضائل کی ترتیب اور بعض کے بعض پر مقدم ہونے کے متعلق 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
…اللّٰہِ الْقَوِی سے سوال ہوا کہ ’’ دھوبی کو اگر ناپاک کپڑا دیا جائے تو پاک ہو کر آتاہے یا نہیں ۔ ‘‘جواب میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’بہتر تو یہی ہے کہ پاک کرکے دھوبی کو کپڑے دیئے جائیں اور ناپاک کپڑا دیاتو دھل کر پاک ہو جائے گا۔‘‘