لوگوں کی نظر پڑتی ہے اور یہ ریا ہے جو کہ ممنوع ہے۔پس ان دو وجہوں سے یہ چیزیں منکر یعنی بری ہیں ۔
جہاں تک اشیاء کا معروف(محمود ونیکی) ہونے کاتعلق ہے تو اس سے بھلائی مقصود ہونہ کہ زیب وزینت اور اسے ترک کرنے والے کا رد نہ کیا جائے، نہ اس کے سبب اوّل وقت سے نماز کو مؤخر کیا جائے اور نہ ہی اس میں مشغول ہو کر اس سے افضل عمل یا علم وغیرہ کو ترک کیا جائے ۔لہٰذا مذکورہ افعال میں سے کوئی چیز اس کے ساتھ ملی ہوئی نہ ہوتو یہ جائز ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ اچھی نیت سے عبادت بن جائے لیکن یہ چیزنکمے لوگوں کو حاصل ہے کہ اگر وہ نماز میں وقت صرف نہ کریں تو نیند یا فضول باتوں میں مشغول ہو جائیں گے تو ان کا اس میں مشغول ہونا بہتر ہے۔ کیونکہ پاکیزگی کے حصول میں مشغولیت سے ذکر ِ الٰہی اور عبادات کی یاد تازہ ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا جب یہ برائی یا اسراف کی طرف نہ لے جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
اہل علم و عمل کے اوقات قیمتی جوہر ہیں :
اہلِ علم وعمل کواپنے اوقات ان (یعنی طہارت و پاکیزگی کے)کاموں میں بقدرِ حاجت ہی صرف کرنے چاہئیں ۔ ان کے حق میں زیادہ وقت صرف کرنا برا اور اس عمر کو ضائع کرنا ہے جو قیمتی جوہر اور اس سے نفع اٹھانے پر قادر شخص کے لئے انتہائی عزیز ہے اور اس پر تعجب نہیں کرنا چاہئے(کہ ایک ہی چیز بعض کے حق میں بری ہے اور بعض کے حق میں اچھی) کیونکہ نیکوں کی نیکیاں مقربین کے لئے برائیاں ہوتی ہیں اور نکمے لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ پاکیزگی کا اہتمام نہ کریں اور صوفیا کارد کریں اور خود کو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی مشابہت کرنے والا گمان کریں کیونکہ ان کے ساتھ مشابہت تو تب ہے کہ اس سے اہم کام کے لئے فارغ ہوں ۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُناداؤد طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے پوچھا گیا کہ ’’ آپ داڑھی میں کنگھی کیوں نہیں کرتے؟‘‘ تو فرمایا: ’’میرے پاس اس کے لئے وقت کہاں ؟‘‘
(حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :) اسی وجہ سے میں عالم، متعلم (طالب علم) اور عمل کرنے والے کے لئے جائز نہیں سمجھتا کہ وہ دھوبی کے دھوئے ہوئے کپڑوں سے احتراز کریں اور یہ گمان کریں کہ اس نے دھونے میں کوتاہی کی ہو گی(۱) اور یوں خود کپڑے دھونے میں وقت ضائع کریں ۔ پہلے زمانے میں لوگ دباغت کئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…فتاویٰ امجدیہ ، جلد اول ، جز 1 ، ص30تا31 پرصدرالشریعہ ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ…