نہیں جانتے اور نہ ہی ان پر تعجب کرتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص صرف پتھر سے استنجا کرے یا زمین پر ننگے پاؤں چلے یا زمین پر نماز پڑھے یامصلّٰی بچھائے بغیر مسجد کی چٹائی پر نماز پڑھے یا چمڑے کا موزہ پہنے بغیر ننگے پاؤں چلے یا کسی بڑھیا یا بے پرواہ شخص کے برتن سے وضو کرے تو اس پر قیامت ڈھا دیتے اور اعتراض کرتے ہیں ۔اسے ناپاک ٹھہراتے اور اپنے گروہ سے خارج کر دیتے ہیں ۔ اس کے ساتھ کھانا پینا اور میل جول رکھنا پسند نہیں کرتے اور وہ شکستہ حالی جو ایمان کا حصہ ہے اسے ناپاکی ٹھہراتے اور تکبر کو پاکیزگی کا نام دیتے ہیں ۔غور کیجئے کہ کیسے برائی نیکی اور نیکی برائی بن گئی اور دین کے رسم و رواج ایسے مٹتے چلے گئے جیسے اس کی حقیقت وعلم مٹ گیا۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگرآپ کہیں کہ صوفیانے اپنی شکل وصورت اور پاکیزگی کے معاملے میں جو عادات اپنارکھی ہیں کیا ہم انہیں ممنوعات ومنکرات کہہ سکتے ہیں ؟تو میں کہوں گا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں بغیر تفصیل کے مطلق ایسی بات کہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ حصولِ پاکیزگی، تکلُّف ، برتن وآلات تیار کرنا، جوتے استعمال کرنا، گردوغبار سے بچنے کے لئے چادر اوڑھنا اور اس کے علاوہ اسباب کو اگر ذاتی طور پر دیکھا جائے کوئی دوسری چیز ملحوظ نہ ہو تو یہ چیزیں مباح ہیں ۔ بعض اوقات ان کے ساتھ کچھ احوال اور نیتیں ملحق ہوتی ہیں جو انہیں کبھی اچھے کاموں سے ملادیتی ہیں اور کبھی برے کاموں سے ۔
اشیاء کامباح، مذموم اور محمود ہونا:
جہاں تک ان مذکورہ چیزوں کے ذاتی طور پر مباح ہونے کا تعلق ہے تویہ بات مخفی نہیں کہ بندہ ان کے ذریعے اپنے مال، بدن اور کپڑوں میں تصرُّف کرتا اور ان کے ساتھ جو چاہے کر تا ہے جب تک کہ اسراف اور مال کا ضیاع نہ ہو۔
ان چیزوں کے مذموم ہونے کی دو صورتیں ہیں :(۱)یاتوانہیں اس فرمانِ رسول کی تفسیر قراردے کردین کی اصل قرار دیا جائے کہ ’’بُنِیَ الدِّیْنُ عَلَی النَّظَافَہیعنی: دین کی بنیاد پاکیزگی پر ہے۔‘‘ (۱) حتی کہ اسلاف کی طرح جو اس پر کم توجہ دے اس کا رد کیا جائے۔ (۲)یا ان چیزوں کا مقصد مخلوق کے لئے ظاہری زیبائش اور ان جگہوں کو سنوارنا ہے جہاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،الباب الثانی فی تکمیل محاسنہ، فصل وامّا نظافۃ جسمہ…الخ،ج۱،ص۶۱۔