Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
400 - 1087
	حضرت سیِّدُنا امام نخعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (نماز میں )جوتے اتارنے کا رد کرتے ہوئے جوتے اتارنے والوں کے متعلق فرمایاکرتے تھے: ’’میں چاہتا ہوں کہ کوئی حاجت مند آئے اور ان کے جوتے لے کر چلتا بنے۔‘‘
	نیز اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام (ظاہری)امور میں بہت کم توجہ دیتے تھے بلکہ گلی کوچوں کے کیچڑ سے ننگے پاؤں گزرجاتے ، اس پر بیٹھ جاتے ، مساجد میں زمین پر(کچھ بچھائے بغیر) نمازاداکر لیتے ، گندم اور جَو کاآٹا استعمال کر لیتے حالانکہ وہ جانوروں کے ذریعے گاہا جاتااوروہ اس پر چلتے ہیں ، وہ نجاست میں لوٹ پوٹ ہونے والے اونٹوں اور گھوڑوں کے پسینے سے نہیں بچتے تھے۔ اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام میں سے کسی کے متعلق منقول نہیں کہ اس نے نجاست کی باریکیوں کے متعلق سوال کیا ہو، اس معاملے میں وہ اس حد تک بے توجُّہ رہتے تھے۔
برائی نیکی اور نیکی برائی بن گئی:
	اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ایک گروہ نے جہالت کا نام پاکیزگی رکھ دیاہے اور اسے دین کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ ان کا زیادہ وقت ظاہر کو سنوارنے میں گزرتا ہے جیسا کہ دلہن کنگھی سے بالوں کوسنوارتی ہے۔ جبکہ ان کا باطن خراب اور غرور وتکبر، خودپسندی، جہالت،ریا اور نفاق سے بھرا ہوا ہے اور حد تو یہ ہے کہ وہ ان برائیوں کو ناپسند 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
…دیکھا کرتے تھے ورنہ انہیں آپ کے اس فعل شریف کی خبر کیسے ہوتی جیسے مسجد حرم شریف کا نمازی نماز میں کعبہ کو دیکھے ایسے ہی حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم) کے پیچھے نماز پڑھنے والا نماز میں حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کو دیکھے۔حدیث کے جز ’’ ان میں گندگی ہے ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : تھوک رینٹ وغیرہ گھن کی چیز نہ کہ پلیدی اور نجاست ورنہ نماز کا لوٹانا واجب ہوتا کیونکہ اگر گندے کپڑے گندے جوتے میں نماز شروع کردی جائے پھر پتا لگے تو نماز دوبارہ پڑھنی پڑتی ہے واقعہ یہ تھا کہ حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم نے خیال فرمایا یہ چیزیں پاک ہیں ان کے ساتھ نماز پڑھنے میں مضائقہ نہیں رب(عَزَّوَجَلَّ) نے جبریل امین(عَلَیْہِ السَّلَام)  کو بھیجا کہ پیارے تمہاری شان کے یہ بھی خلاف ہے تمہارے لباس پاک بھی چاہئیں ستھرے بھی لہٰذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم)نے نماز لوٹائی کیوں نہیں اور نہ یہ اعترا ض کہ حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم)کو اپنے نعلین کی بھی خبر نہیں اوروں کی کیا خبر ہوگی جو شہنشاہ زمین پر کھڑے ہو کر اندرون زمین کا عذاب دیکھ لے اور عذاب قبر کی وجہ جان لے اور جو یہ فرمائے کہ نماز صحیح پڑھا کر و مجھ پر تمہارے رکوع سجدے دل کا خشوع خضوع پوشیدہ نہیں اس پر اپنے نعلین کا حال کیسے چھپے گا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ اپنے حبیب کی ہر ادا کی نگرانی فرماتا ہے کیوں نہ ہو خود فرماتا ہے۔فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا (پ۲۷،الطور: ۴۸) اے محبوب تم ہماری نظروں میں رہتے ہو۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام  (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)عین نماز میں حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کی ادائیں دیکھتے تھے اور حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کی نقل کرتے تھے ۔