Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
40 - 1087
 وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
{2}… جس چیز کو انہوں نے ترتیب سے بیان نہیں کیا میں   نے اُس کی ترتیب قائم کی اور جسے انہوں نے علیحدہ علیحدہ بیان کیا میں   نے اسے یکجا ذکر کیا ہے۔
{3}… جس چیز کو انہوں نے طوالت سے لکھا میں   نے اسے مختصر بیان کیا ہے۔
{4}… جو بات انہوں نے بار بار نقل کی میں   نے تکرار کو حذف کردیا اور اصل مقصود کو باقی رکھاہے۔
{5}… جن پیچیدہ باتوں کا سمجھنا دشوار ہے انہوں نے انہیں بالکل نہیں چھیڑا اگرچہ انہوں نے ایک ہی طریقہ اختیار کیا ہے لیکن کوئی بعید نہیں کہ کسی سالک کو کوئی ایسی خاص بات پتا چل جائے جس سے اس کے رفقا بے خبر ہوں یا وہ بے خبر تو نہ ہوں مگر اسے لانا بھول گئے ہوں یا بھولے بھی نہ ہوں لیکن کسی مانع(رُکاوٹ) کی وجہ سے اس سے پردہ نہ اٹھایا ہو۔ یہ اس کتاب کی خصوصیات ہیں مزید یہ کتاب ان علوم کی تفصیل پر بھی مشتمل ہے۔
کتاب چار حصوں میں   تقسیم کرنے کی وجہ:
	دو باتوں نے مجھے اس کتاب کو چار حصوں میں   تقسیم کرنے کی طرف راغب کیا:
	پہلی وجہ:حقیقت میں   یہی اصل وجْہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تحقیق وتفہیم میں   یہ ترتیب علمِ ضروری کی طرح ہے کیونکہ جس علم کے ذریعے آخرت کی طرف توجہ کی جاتی ہے اس کی دو قسمیں   ہیں : (۱)علمِ معامَلہ اور (۲)علمِ مکاشَفہ۔
علم مکاشفہ و علم معاملہ کی تعریف:
	علم مکاشفہ: سے مراد وہ علم ہے جس میں   صرف معلومات کا پتاچلتاہے اور علم معاملہ: سے مراد وہ علم ہے جس میں   معلومات جاننے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا مقصود صرف علم معاملہ ہے علمِ مکاشَفہ اس کا موضوع نہیں کیونکہ اسے کتابوں میں   لانے کی اجازت نہیں اگرچہ یہ علم طالبانِ حق کا بڑا مقصد اور صدیقین کااصل مقصود ہے اور علمِ معامَلہ اس تک لے جانے والا ایک راستہ ہے۔ لیکن انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے لوگوں کے ساتھ صرف علمِ طریقت وہدایت میں   بات کی ہے اور علمِ مکاشَفہ میں   اشارے اور مثال و اجمال کے طور پر گفتگو فرمائی ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لوگوں کی عقلیں ان کی متحمل نہیں ہو سکیں گی اور علما تو انبیاکے وارِث ہیں اس لئے ان