(۱)…چھلنی (۲)…اشنان (۳)…ٹیبل اور (۴)…پیٹ بھر کر کھانا۔
جوتے پہن کرنماز پڑھنا کیسا؟ (۱)
الغرض اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی تمام تر توجہ باطن کی صفائی کی طرف ہواکرتی تھی یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ ’’جوتے پہن کر نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَامنے آقائے دوعالم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو توجہ دلائی کہ نعلین پاک میں کچھ لگ گیا ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جوتے اتار دیئے، صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بھی جوتے اُتار دیئے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’تم نے جوتے کیوں اُتارے (۲)؟‘‘(۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مفسرشہیر ، حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَنَاجیْح ، ج 1،ص 469پر اس حدیث پاک کہ ’’ یہود کی مخالفت کرو وہ نہ جوتوں میں نمازپڑھتے ہیں نہ موزوں میں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں :یعنی یہود جوتے یا موزے میں نماز جائز نہیں سمجھتے تم جائز سمجھو، خیال رہے کہ موزوں میں نماز ادا کرنا سنت ہے لیکن جوتے اگر پاک ہوں اور اتنے نرم کہ سجدہ میں حرج واقعہ نہ ہو کہ پاؤں کی انگلیاں بخوبی مڑکر قبلہ رو ہوسکیں تو ان میں نماز جائز ہے ہمارے ملک کی جوتیاں نماز کے قابل نہیں نیز اب لوگ صحابۂ کرام (رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) جیسے با ادب نہیں اگر انہیں جوتوں میں نماز کی اجازت دی جائے، تو مصلے اور مسجدیں گندگی سے بھردیں گے اس لیے اب جوتے اتار کر ہی مسجدوں میں آنا اور نماز پڑھنا چاہیے (از مرقاۃ و شامی) اس سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی مخالفت کے لیے جائز کام ضرور کرنا چاہئیں جیسے اس زمانے میں میلاد شریف اور گیارہویں ،(صاحب)مرقاۃ نے فرمایا کہ چونکہ اب یہود ہمارے علاقے میں رہے نہیں ، اس لیے اب جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ خیال رہے کہ مسجد یا نماز کے ادب کے لیے جوتا اتارنا قرآن شریف سے ثابت ہے ۔ رب(عَزَّوَجَلَّ) فرماتا ہے: فَاخْلَعْ نَعْلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی ﴿ؕ۱۲﴾(پ۱۶،طٰہٰ :۱۲) اے موسیٰ تم عزت والے جنگل میں ہو جوتے اتار دو، بعض با ادب مرید اپنے شیخ کے شہر میں جوتے نہیں پہنتے، امام مالک زمین مدینہ میں کبھی گھوڑے یا کسی اور سواری پر سوار نہ ہوئے، ان کے آداب کا ماخذ یہ آیت ہے اور یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں ۔
2…سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ فی النعل، الحدیث:۶۵۰، ج۱، ص۲۶۱۔
3…مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح ،ج 1،ص 470پر اس حدیث مبارکہ کے تحت ہے : یہ سب کچھ تھوڑی سی حرکت سے ہوا،ور نہ عمل کثیر نماز کو فاسد کردیتا ہے۔حدیث کے جز’’جب قوم نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتاردیئے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضور(صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم)کی پیروی بہرحال کی جائے وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے دیکھو صحابۂ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ) نے حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کو نعلین اتارتے دیکھا تو بغیر وجہ کی تحقیق کیے جوتے اتار دیئے اور سرکار نے اس اتباع پر اعتراض نہ فرمایا، دوسرے یہ کہ صحابۂ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان )نماز میں بجائے سجدہ گاہ کے اپنے ایمان گاہ یعنی حضور انورصَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّم کو …