بلند مقام پر فائز ہونے سے مانع عمل:
بندہ اس وقت تک باطن کو مذموم صفات سے پاک اور اچھی عادات سے آباد نہیں _ کر سکتا جب تک کہ دل کو بری عادت سے پاک اور اچھے اخلاق سے مزین نہ کر لے اور جو شخص اعضاء کو ممنوعات(ناپسندیدہ امور) سے پاک اور عبادت سے معمور نہ کر لے وہ بلندمقام پر فائز نہیں ہوسکتا۔پس جب مطلوب قابلِ عز وشرف ہو تواس کا راستہ دشواراور طویل ہوتا ہے اور گھاٹیاں زیادہ ہوتی ہیں ۔لہٰذایہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ چیز باآسانی حاصل ہو جائے گی۔ البتہ! جو شخص ان درجات میں فرق کو نہیں سمجھ سکتا وہ طہارت کا آخری درجہ ہی سمجھ سکتا ہے(یعنی ظاہر کو گندگیوں اور نجاستوں سے پاک کرنا) جو کہ مطلوبہ مغز کے اعتبار سے آخری ظاہری چھلکا ہے وہ اس میں بہت غور و خوض کرتا اور اس کے طریقوں میں مبالغہ کرتا ہے۔نیزاپنے تمام اوقات استنجا کرنے ، کپڑے دھونے، ظاہر کی صفائی کرنے اور بہنے والے وافر پانی کی طلب میں گزار دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے وسو سے اور عقلی گمان میں یہی سمجھتا ہے کہ طہارت جو مطلوب ہے وہ یہی ہے۔ ایسا شخص اسلاف کی سیرت سے ناواقف ہے اور نہیں جانتا کہ اسلاف توظاہری امور کے مقابلے میں اپنی تمام فکر وہمت اور کوشش دل کی صفائی میں لگا دیتے تھے۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگراہل صفہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم بُھنا ہوا گوشت کھاتے پھر نماز کا وقت ہوجاتا توہم اپنی انگلیاں کنکریوں میں ڈال کر مٹی سے پونچھ لیتے اور تکبیر کہتے۔‘‘ (۱)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’زمانۂ رسالت میں ہم اشنان (ایک قسم کی بوٹی جو صابن کی مثل صفائی کا کام دیتی ہے) کے متعلق نہیں جانتے تھے ۔ ہمارے رومال ہمارے پاؤں کے تلوے ہی ہوتے تھے۔ جب ہم چکنائی والی چیز کھاتے توہاتھوں کوتلووں ہی سے صاف کر لیتے تھے۔‘‘ (۲)
سب سے پہلی بدعتیں :
منقول ہے کہ پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے پہلے چاربدعتیں ظاہر ہوئیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، باب الشواء، الحدیث:۳۳۱۱، ج۴، ص۳۱۔
2…قوت القلوب، الفصل السادس والثلاثون فی فضائل اھل السنۃ…الخ، ج۲، ص۲۳۹۔