Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
397 - 1087
 حضورنبی ٔکریم ، رء و ف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ظاہر کو تو پانی بہا کر پاک کر لیا جائے مگر باطن کو گندگیوں سے پاک نہ کیا جائے ۔
طہارت کے درجات:
	طہارت کے چار درجات ہیں :(۱)ظاہر کوناپاکیوں ، نجاستوں اور پاخانے وغیرہ سے پاک کرنا(۲) اعضاء کو جرائم اور گناہوں سے پاک کرنا (۳)دل کو برے اخلاق اور ناپسندیدہ خصلتوں سے پاک کرنا(۴) باطن کوغیراللّٰہ  سے پاک کرنا۔
	 آخری درجے کی طہارت انبیا وصدیقین کی طہارت ہے۔ ہر رتبہ میں طہارت اس عمل کا نصف ہے جس میں وہ پائی جاتی ہے۔ مثلاً باطنی عمل (یعنی چوتھے درجے) میں مقصود یہ ہے کہ اس کے لئے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی جلالت وعظَمت ظاہر ہو جائے اور معرفت ِ الٰہی باطن میں اس وقت تک جاگزیں نہیں ہوسکتی جب تک کہ غیر خدا کا خیال دل سے نہ نکل جائے۔ اسی لئے اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایا:
قُلِ اللہُ ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِیۡ خَوْضِہِمْ یَلْعَبُوۡنَ ﴿۹۱﴾ (پ۷،الانعام:۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اللّٰہکہو پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں  کھیلتا۔
	کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں (اور کسی کے دو دل ہو نہیں سکتے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:) 
مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلْبَیۡنِ فِیۡ جَوْفِہٖ ۚ(پ۲۱،الاحزاب:۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اللّٰہنے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے۔
	اور جہاں تک دل کی پاکیزگی(یعنی تیسرے درجے ) کا معاملہ ہے تو اس میں اصل مقصود دل کی طہارت ہے اور اس کے دودرجے ہیں :(۱)دل کو اچھے اخلاق اورشرعی عقائد سے آباد کرنااور (۲) برے عقائد اورناپسندیدہ خصلتوں سے پاک رکھناان میں سے ایک درجہ دوسرے کے لئے شرط ہے ۔ اس معنٰی کے اعتبار سے پاکیزگی نصف ایمان ہے۔دل کی طرح اعضاء کی طہارت کے بھی دو درجے ہیں :(۱)انہیں ممنوعات سے پاک رکھنا اور (۲) طاعات سے مزین کرنا۔اس میں پہلادرجہ دوسرے کے لئے شرط ہے۔یہ ایمان کے درجات ہیں اور ہر درجے کے لئے ایک طبقہ ہے۔ بندہ اس وقت تک بلند درجے تک رسائی نہیں پاسکتا جب تک نچلے درجے سے اوپر نہ چلا جائے۔