طہارت کا بیان
سب خوبیاں اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے لئے جس نے اپنے بندوں پر لطف وکرم فرماتے ہوئے انہیں پاکیزگی کا حکم فرمایا اور ان کے باطن کو پاک کرنے کے لئے ان پر مہربانیوں کا فیضان جاری کیا ان کے ظاہر کو پاک کرنے کے لئے رقیق اور بہنے والا پانی بنایا اور حضرتِ سیِّدُنا محمدمصطفٰیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رحمت ہو جن کا نورِ ہدایت کائنات کے گوشے گوشے کو محیط ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاکیزہ آل پر ایسی رحمت ہو جس کی برکات محشر کے دن ہمیں نجات دلائیں نیز ہمارے اور ہر مصیبت کے درمیان ڈھال کا کام دیں ۔
طہارت کے متعلق حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیے:
طہارت کے متعلق تین فرامینِ مصطفٰی
{1}…’’بُنِیَ الدِّ یْنُ عَلَی النَّظَافَۃ یعنی: دین کی بنیاد پاکیزگی پر ہے۔‘‘ (۱)
{2}…’’مِفْتَاحُ الصَّلٰو ۃِ اَلطُّہُوْر یعنی: نماز کی کنجی طہارت ہے۔‘‘ (۲)
(پاگیزگی حاصل کرنے والوں کی فضیلت میں )ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیۡنَ﴿۱۰۸﴾ (پ۱۱،التوبۃ:۱۰۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللّٰہ کو پیارے ہیں ۔
{3}…’’اَلطَّہُوْرُ نِصْفُ الْاِیْمَان یعنی پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔‘‘ (۳)
قرآنِ پاک میں ارشادہوتاہے :
مَایُرِیۡدُ اللہُ لِیَجْعَلَ عَلَیۡکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَہِّرَکُمْ(پ۶،الما1ئدۃ: ۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اللّٰہنہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کر دے۔
ان روایات کے ظاہر سے اہل بصیرت نے جان لیا کہ سب سے زیادہ اہمیت باطن کی صفائی کی ہے کیونکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،الباب الثانی فی تکمیل محاسنہ،فصل وامّانظافۃ جسمہ…الخ،ج۱،ص۶۱۔
2…سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ، باب فرض الوضو ء، الحدیث:۶۱، ج۱، ص۵۶۔
3…سن الترمذی، کتاب الدعوات، الحدیث:۳۵۳۰، ج۵، ص۳۰۸۔