Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
395 - 1087
وَ لِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوۡرِ ﴿۴۱﴾ (پ۱۷،الحج:۴۱)		ترجمۂ کنزالایمان: اور اللّٰہ ہی کے لئے سب کاموں کا انجام۔
	لہٰذا جب (سلامتی ٔ ایمان میں ) اس قدَر شک ہوتو اِنْ شَآءَاللہُکہنا ضروری ہوا۔ کیونکہ ایمان وہی ہے جس کے نتیجے میں جنت ملے۔ جیسے روزہ اسے ہی کہیں گے جو بری ٔالذمہ کر دے۔ جو روزہ غروبِ آفتاب سے پہلے فاسد ہو جائے، وہ بری ٔالذمہ نہیں کرتا لہٰذا جس طرح وہ روزہ روزہ نہیں کہلائے گا اسی طرح ایمان کا بھی معاملہ ہے، بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر کوئی آپ سے گزشتہ رکھے ہوئے روزے کے بارے میں پوچھے کہ کیا کل آپ روزے سے تھے؟ تو جواب میں اِنْ شَآءَاللہُکہنا چاہئے کیونکہ اصل روزہ تو وہی کہلائے گا جو بارگاہِ خدا وندی میں درجۂ قبولیت پالے اور قبولیت پوشیدہ امور میں سے ہے جس کا علم صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے پاس ہے۔اسی وجہ سے بہتر ہے کہ ہر عملِ خیر کے ساتھ اِنْ شَآءَاللہُکہا جائے اور یہ قبولِ عمل میں شک کی بنیاد پر کہا جائے گا۔کیونکہ عملِ صالح کے صحیح ہونے کی ظاہر ی شرائط پوری کرنے کے بعد کچھ پوشیدہ امور قبولِ عمل میں رکاوٹ بن جاتے ہیں جن کا علم رب العالمین جَلَّ جَلَالُــہٗ کو ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس شک کو اچھا قرار دیا جائے گا۔
	یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپنے ایمان کا اقرار اِنْ شَآءَاللہُکے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ وہ آخری بحث ہے جس پر ہم اپنے باب’’قواعدُ العقائد‘‘ کو نقطۂ اختتام کی طرف لائے ہیں ۔
	اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!یہ باب اختتام کو پہنچا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رحمتیں ہوں ہمارے سردار حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور ہر برگزیدہ بندے پر۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
{…تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہ		اَسْتَغْفِرُاللّٰہ…}
{…صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…}