حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !جسے اپنے برے خاتمے کا خوف نہیں ہوتا اس کا خاتمہ برا ہوتاہے۔‘‘ (۱)
یہ بھی منقول ہے کہ ’’بعض گناہوں کی سزا برا خاتمہ ہے۔‘‘ ہم ان سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ ’’وہ گناہ(جو برے خاتمے کا سبب بنتے ہیں ) ولایت وکرامت کا جھوٹا دعویٰ کرنا ہے۔‘‘
ایمان پر ملنے والی موت کو شہادت پر ترجیح:
کسی عارف باللّٰہ کا قول ہے کہ ’’اگر مجھے اپنے کمرۂ خاص کے دروازہ پر ایمان پر موت مل رہی ہو اور شہادت عمارت کے صدر دروازہ (MAIN ENTRANCE) پرمُنتِطر ہو تو(شہادت اگر چِہ اعلیٰ دَرَجہ کی سَعادت ہے مگر) میں کمرہ کے دروازے پر ملنے والی ایمان پر موت کو فوراً قبول کر لوں گاکہ کیا معلوم عمارت کے صدر دروازے تک پہنچتے پہنچتے میرا دل بدل جائے ۔‘‘
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ’’اگر میں کسی کو 50سال تک مسلمان جانوں ، پھر میرے اور اس کے درمیان ایک ستون حائل ہوجائے اور اسی دوران وہ مرجائے تو میں حتمی طور پر یہ نہیں کہوں گا کہ اسے دین اسلام پر موت آئی ہے۔‘‘
حدیث ِ پاک میں ہے : جوکہے: ’’میں مومن ہوں ‘‘ وہ کافر ہے اور جو کہے: ’’میں عالم ہوں ‘‘ وہ جاہل ہے۔ (۲)
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ؕ(پ۸، الانعام: ۱۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور پوری ہے تیرے ربّ کی بات سچ اور انصاف میں ۔
اس آیت ِ مبارَکہ کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا اس کے لئے صدق اور جس کا خاتمہ شرک پر ہوا اس کے لئے عدل ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الخامس والثلاثون فیہ ذکر اتصال الایمان…الخ، ج۲، ص۲۲۸۔
2…تفسیر ابن کثیر،سورۃ النسآء:۴۹، ج۲، ص۲۹۲۔
المعجم الاوسط، من اسہ محمد، الحدیث:۶۸۴۶، ج۵، ص۱۳۹۔