درجات میں کمی کرکے صدیقین کے مرتبے سے نیچے گرا دے۔ اس قسم میں شک ہوتا ہے اس لئے یہاں اِنْ شَآءَاللہُکہنا بہتر ہے۔ منافقت کی اس قسم کا سبب ظاہر وباطن کا یکساں نہ ہونا ہے ۔ صرف صدیقین ہی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیرسے محفوظ اور خودپسندی وغیرہ جیسے امور سے دُور ہوتے ہیں ۔
یاربعَزَّوَجَلَّ ! وقت موت سلامتی ٔ ایمان نصیب فرما!
چوتھی وجہ:جو شک کی طرف منسوب ہے۔ اس کا تعلق برے خاتمے کے خوف کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ بندہ نہیں جانتا کہ موت کے وقت اسے سلامتی ٔ ایمان نصیب ہو گی یا نہیں ؟ اگر خاتمہ کفر پر ہوا تو پوری زندگی کے اعمال ضائع ہو جائیں گے کہ اعمال کے اجروثواب کا دارومدار بوقت ِ آخر سلامتی ٔ ایمان پر موقوف ہے۔ مثلاً کسی روزہ دار سے دوپہر کے وقت اس کے روزے کے صحیح ہونے کے متعلق پوچھا جائے اور وہ کہے: واقعی! میں روزہ دار ہوں ۔اس کے بعد دن ہی میں اگر وہ شخص افطار کر دے تو اس کا جھوٹ واضح ہو جائے گا کیونکہ روزہ تبھی صحیح مانا جائے گا جبکہ اسے پورادن غروبِ آفتاب تک قائم رکھا جائے۔ پس جس طرح روزے کی صحت پورے دن پر موقوف ہے اسی طرح ایمان کی صحت پوری زندگی پر موقوف ہے اور اسے آخری وقت سے قبل سابقہ حالت کی بنیاد پر سلامت کہا جاتا ہے۔ جس میں شک اور برے انجام کا خوف باقی ہے۔ اسی وجہ سے خوفِ خدا رکھنے والے اکثر بزرگ گریہ وزاری کرتے ہیں کیونکہ حسنِ خاتمہ گزشتہ کا انجام ہے اور مشیت ِ اَزَلی اسی وقت ظاہر ہو گی جب فیصلہ طلب چیز کا ظہور ہوگا اور اس کا کسی بھی بشرکو علم نہیں ہوتااور برے خاتمے کا خوف اَزَلی فیصلے کے ظہورکے خوف کی طرح ہے۔ اکثر اوقات ایسا اَزَلی فیصلہ موجودہ حالت کے خلاف ہوتا ہے۔تو کسے معلوم کہ وہ ان لوگوں میں سے ہوجن کے مقدر میں بھلائی لکھ دی گئی ہے؟ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ (پ۲۶،قٓ:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ۔
اس آیت ِ مقدسہ میں ’’حق‘‘ سے مراد فیصلۂ اَزَلی ہے جس کاظہور موت کے وقت ہوتا ہے۔
بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْنکا فرمان ہے: ’’میزانِ عمل پر وہی عمل لائے جائیں گے جن پر خاتمہ ہوا ہے۔‘‘(۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تفسیر عبدالرزاق، سورۃ الانبیاء، الحدیث:۱۸۶۷، ج۲، ص۳۸۷۔