وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۲۴،الزمر:۴۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اور انہیں اللّٰہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی ۔
اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’بعض اعمال، لوگ نیکیاں سمجھ کرکرتے رہیں گے لیکن بروزِ قیامت وہ گناہوں کے پلڑے میں ہوں گے۔‘‘
{19}…حضرت سیِّدُنا سری سقطی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص باغ میں جائے جہاں ہرقسم کے درخت ہوں ، ان پر ہر قسم کے پرندے ہوں اور ہر پرندہ جدا زبان میں اس شخص سے کلام کرے اور کہے: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ اللّٰہیعنی: اے اللّٰہ کے ولی! تم پر سلامتی ہو۔‘‘ یہ سن کر اگر اس کا نفس راحت محسوس کرے تو وہ ان پرندوں کا اسیر (قیدی) ہے۔
فاروقی ودارانی تقویٰ:
مذکورہ روایات واقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق کی باریکیوں اور شرکِ خفی کی وجہ سے معاملہ خطرناک ہے۔ اس سے بے خوف نہیں رہا جا سکتا۔ حتی کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اپنے بارے میں پوچھا کرتے تھے کہ ’’کہیں میرا شمار منافقین میں تو نہیں ہوا؟‘‘
حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’میں نے بعض حکام سے کوئی (خلافِ شرع) بات سنی، تو اس کا رد کرنے کا ارادہ کیا (لیکن خاموش رہا)کہ کہیں میرے قتل کا حکم صادر نہ کر دیا جائے اور ایسا میں نے موت کے ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کیا کہ موت کے وقت کہیں میرے دل میں مخلوق کے سامنے فخر پیدا نہ ہو جائے ۔‘‘
بہر حال یہ نفاق اصل ایمان کے نہیں بلکہ کامل، حقیقی اور کھرے ایمان کے خلاف ہوتا ہے۔
نفاق کی اقسام:
نفاق کی دوقسمیں ہیں :(۱)…وہ نفاق جودائرۂ اسلام سے خارج اور ملت ِ کفار میں داخل کر دے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں میں شامل کر دے۔(۲)…وہ نفاق جو بندے کو ایک مخصوص مدت کے لئے جہنمی بنا دے، یا بلند