پاؤں رکھنا مشکل ہو جائے۔‘‘
{10}…حضرت سیِّدُناا بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی موجودگی میں ایک شخص اِشاروں کنایوں میں حجاج بن یوسف کی برائی کرنے لگا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’کیا تم اس کی موجودگی میں بھی یہ بات کرسکتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’نہیں !‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’زمانۂ رسالت میں ہم اس چیز کو منافقت میں شمار کرتے تھے۔‘‘ (۱)
{11}…سرکارِ مدینہ، راحت ِ قلب و سینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے: ’’مَنْ کَانَ ذَا لِسَانَیْنِ فِی الدُّنْیَا جَعَلَہُ اللّٰہُ ذَا لِسَانَیْنِ فِی الْاٰخِرَۃ یعنی:جو دنیا میں دوزبانوں والا(یعنی دو رُخا) ہوگا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آخرت میں بھی اسے دوزبانوں والا بنا دے گا۔‘‘ (۲)
{12}…ایک روایت میں ہے :’’شَرُّ النَّاسِ ذُو الْوَجْہَیْنِ الَّذِیْ یَاْتِیْ ہٰؤُلَآءِ بِوَجْہٍ وَّیَاْتِیْ ہٰؤُلَآءِ بِوَجْہٍ یعنی:لوگوں میں سے بدترین دورُخا شخص ہے جو اِدھر ایک رُخ کے ساتھ آئے اور اُدھر دوسرے رُخ کے ساتھ ۔‘‘ (۳)
{13}…حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے ان لوگوں کی بابت پوچھا گیا جو کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی ذات پر منافقت کا کوئی خطرہ نہیں تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہنے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر مجھے اپنا نفاق سے بری ہونا معلوم ہوجائے تو یہ میرے نزدیک زمین بھر سونا ملنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ (۴)
{14}…آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ مزید فرماتے ہیں : ’’منافقت کی پہچان یہ ہے کہ بندہ دل وزبان، ظاہر وباطن اور اندرونی وبیرونی معاملات میں مختلف ہو۔‘‘ (۵)
{15}…ایک شخص حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض گزارہوا کہ مجھے نفاق سے بہت ڈر لگتا ہے۔ آپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن عمر، الحدیث:۵۸۳۳، ج۲، ص۴۳۳، مفہومًا، لیس فیہ ذکرالحجاج۔
قوت القلوب، الفصل الخامس والثلاثون فیہ ذکر اتصال الایمان…الخ، ج۲، ص۲۲۹۔
2…المعجم الاوسط، من اسمہ مقدام، الحدیث:۸۸۸۵، ج۷، ص۳۱۳۔
3…قوت القلوب، الفصل الخامس والثلاثون فیہ ذکر اتصال الایمان…الخ، ج۲، ص۲۲۹۔
صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ والآداب، باب ذم ذی الوجھین، الحدیث:۲۵۲۶، ص۱۴۰۳۔
4…قوت القلوب، الفصل الخامس والثلاثون فیہ ذکر اتصال الایمان…الخ، ج۲، ص ۲۲۹۔
5…قوت القلوب، الفصل الخامس والثلاثون فیہ ذکر اتصال الایمان…الخ، ج۲، ص۲۲۹۔