Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
389 - 1087
 پر غلاف چڑھا ہے اور وہ اپنے غلاف پر بندھا ہے یہ کافر کا دل ہے۔ ایک دل وہ ہے جو اوندھا پڑاہے یہ منافق کا دل ہے۔)
	ایک روایت میں ہے :غُلِبَتْ عَلَیْہِ ذَہَبَتْ بِہٖیعنی: جو مادہ غالب آیا وہ اسے لے جائے گا۔
{3}…اَکْثَرُ مُنَافِقِیْ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ قُرَاؤُہَایعنی: اس امت کے اکثر قاری منافق ہوں گے۔ (۱)
{4}…اَلشِّرْکُ اَخْفٰی فِیْ اُمَّتِیْ مِنْ دَبِیْبِ النَّمَلِ عَلَی الصِّفَایعنی:میری اُمّت میں شرک پتھر پر رینگنے والی چیونٹی سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ (۲)
{5}…حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’زمانۂ رسالت میں کوئی شخص ایک (غیر مناسب)  کلمہ کہتا تو وہ تاوفات منافق شمار ہوتا اور اب میں تم سے ایسے کلمات دن میں 10 بار سنتا ہوں ۔‘‘  (۳)
{6}…بعض علما فرماتے ہیں : ’’اَقْرَبُ النَّاسِ مِنَ النِّفَاقِ مَنْ یَرٰی اَنَّہٗ بَرِئٌ مِنَ النِّفَاقیعنی: جو اپنے آپ کو منافقت سے دُور شمار کرے وہ منافقت کے زیادہ قریب ہے۔‘‘
{7}…حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے کہ ’’زمانۂ رسالت کی بنسبت آج منافقین کی تعداد زیادہ ہے۔ اُس دَور میں وہ اپنا نفاق چھپاتے تھے اور آج ظاہر کرتے ہیں ۔‘‘  (۴)
	منافقت سچے اور کامل ایمان کی ضد ہے۔یہ ایک مخفی امر ہے۔اس سے زیادہ دور وہی ہے جو اس سے خائف رہتا ہے اورجو اپنے آپ کو اس سے نجات یافتہ سمجھتا ہے وہ اس کے زیادہ قریب ہے۔
{8}…حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیکے سامنے بیان کیا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں : ’’اس دور میں منافقت ختم ہوگئی ہے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہنے فرمایا: ’’ بھائی ! اگر منافق ہلاک ہو جائیں تو (راستوں میں چلنے والوں کی کمی کے باعث)تمہیں راستوں سے وحشت ہونے لگے ۔‘‘
{9}…انہی سے یاکسی اور سے مروی ہے کہ ’’ اگر منافقین کی دُمیں ہوں تو(ان کی کثرت کے باعث) ہمارا زمین پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند الشامیین، حدیث عقبۃ بن عامر الجھنی، الحدیث:۱۷۳۷۲، ج۶، ص۱۳۳۔
2…فردوس الاخبارللدیلمی، باب الشین، الحدیث:۳۴۹۰، ج۲، ص۱۴۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث حدیفۃ بن الیمان، الحدیث:۲۳۳۳۷، ج۹، ص۸۰۔
4…صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب اذا قال عند قوم شیئاً…الخ، الحدیث:۷۱۱۲، ج۴، ص۴۴۷، بتغیرٍقلیلٍ۔