عمل کے متعلق 2فرامین مصطفیٰ:
{1}…اَ لْاِیْمَانُ عُرْیَانٌ وَلِبَاسُہُ التَّقْوٰی یعنی:ایمان بے لباس ہے اس کا لباس تقویٰ ہے۔ (۱)
عمل کے متعلق 2 فرامین مصطفٰے:
{1}… اَلْا ِیْمَانُ عُرْیَانٌ وَ لِبَاسُھُ التَّقْوٰی یعنی ایمان بے لباس ہے اس کا لباس تقویٰ ہے۔(۱)
{2}…اَ لْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ بَابًا اَدْنَاہَا اِمَاطَۃُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْق یعنی: ایمان کے 70 سے زائد درجے ہیں جن میں سے کمتر، راستے سے تکلیف دہ چیز دُور کرنا ہے۔ (۲)
ان آیات وروایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کمال ایمان اعمالِ صالحہ کے سبب حاصل ہوتا ہے۔
(اب وہ روایات مُلاحَظہ فرمائیے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ) منافقت اور شرکِ خفی (یعنی ریاکاری) سے دُوری، ایمان کو کمال بخشتی ہے۔ چنانچہ،
نفاق کی مذمت میں وارد 19روایات و اقوال
{1}…اَرْبَعٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ فَھُوَ مُنَافِقٌ خَالِصٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعِمَ اَ نَّـــہٗ مُؤْمِنٌ مَنْ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ، وَاِذَا ائْتُمِنَ خَانَ، وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَیعنی:جس میں یہ چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے خواہ وہ نماز روزے کاپابند ہو اور خود کو مومن خیال کرتا ہو: (۱)…جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)…جب وعدہ کرے تو پورانہ کرے (۳)…جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اور (۴)…جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے۔ (۳)
بعض روایات میں ’’اِذَا عَاہَدَ غَدَرَیعنی: جب وعدہ کرے تو وفا نہ کرے۔‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ (۴)
{2}…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خُدرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’دل چار قسم کے ہیں : (۱)…انتہائی صاف جس میں چراغ روشن ہے یہ مومن کا دل ہے۔ (۲)…دو رُخا دل، جس میں ایمان بھی ہے اور منافقت بھی۔ اس میں ایمان کی مثال سبزی کی طرح ہے، جو میٹھے پانی سے نشوونما پاتی ہے اور منافقت کی مثال اس ناسور کی سی ہے جسے پیپ اور گندا خون مزید بڑھاتے ہیں ۔ تو ان دو میں سے جو زیادہ بڑھا اسی کا حکم لگے گا۔‘‘ (۵) (ایک دل وہ ہے جس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الفقیہ والمتفقہ، ذکر احادیث واخبار شتی، الحدیث:۱۲۹، ج۱، ص۱۴۶۔
2…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان…الخ، الحدیث:۳۵، ص۳۹۔۴۰۔
3…المرجع السابق،الحدیث:۵۸،۵۹،ص۵۰،۵۱۔
4…المرجع السابق، الحدیث:۵۸، ص۵۰۔
5…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی سعید الخدری، الحدیث:۱۱۱۲۹، ج۴، ص۳۶۔