عمل کے متعلق 5فرامین باری تعالیٰ:
{۱}
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوۡا وَ جَاہَدُوۡا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنۡفُسِہِمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾ (پ۲۶،الحجرٰت:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ایمان والے تو وہی ہیں جو اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا اور اپنی جان اور مال سے اللّٰہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچّے ہیں ۔
شک اس صدق میں ہوتا ہے (جو کامل مسلمانوں کا وصف ہے، نہ کہ اصل ایمان میں )۔
{۲}
وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ(پ۲،البقرۃ:۱۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان: ہاں ! اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللّٰہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر ۔
اس آیت ِ مبارکہ میں مسلمانوں کے20 اوصاف بیان کئے گئے ہیں ۔ جیسے وعدہ وفائی اور مصائب پر صبر کرنا ۔ پھر ارشاد فرمایا: اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡاؕ(پ۲،البقرۃ:۱۷۷) ترجمۂ کنز الایمان:یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی۔
{۳}
یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ٍ ؕ(پ۲۸،المجادلۃ:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیادرجے بلند فرمائے گا۔
{۴}
لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ (پ۲۷، الحدید:۱۰)
ترجمہ کنز الایمان:تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا ۔
{۵}
ہُمْ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللہِ ؕ (پ۴، اٰل عمرٰن:۱۶۳) ترجمۂ کنز الایمان:وہ اللّٰہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں ۔