Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
386 - 1087
قبرستان میں سلام کرنے کا طریقہ :
                            حضور نبی ٔپاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معمول تھا کہ جس امر کی بھی خبر دینا چاہتے خواہ وہ ظنی ہوتا یا یقینی اِنْ شَآءَاللہُ کہتے۔ یہاں تک کہ جب قبرستان سے گزرہوتا تو فرماتے: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَاللہُ بِکُمْ لَاحِقُوْن یعنی : اے مومن قوم کی جماعت تم پر سلام ہو اِنْ شَآءَاللہُہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۔‘‘  (۱)
                حالانکہ مومنوں کے ساتھ ملنا(یعنی وفات پانا) ایک یقینی امر ہے۔ لیکن ادَب کا تقاضا یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا ذکر کیا جائے اور ہر امر کا تعلق اس کی مشیت سے جوڑا جائے اور یہ الفاظ( اِنْ شَآءَاللہُ )اسی معنی کو ادا کرتے ہیں ۔ حتی کہ عوامُ النَّاس میں ان الفاظ کو شوق و تمنا کے اظہار کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اگر آپ کو بتایا جائے کہ فلاں شخص جلد ہی مرنے والا ہے اور آپ کہیں : اِنْ شَآءَاللہُ  تو اس بات سے یہ اندازہ نہیں ہو گا کہ آپ کو اس کی موت میں شک ہے بلکہ یہ کہ آپ کو اس کی موت میں رغبت ہے اور جب آپ کو بتایاجائے کہ فلاں شخص عنقریب بیماری سے شفا پانے والا ہے اور آپ کہیں اِنْ شَآءَاللہُ تواس کا مطلب رغبت لیا جائے گا۔ پس معاملہ خواہ کوئی بھی ہوان الفاظ (اِنْ شَآءَاللہُ )کو شک والے معنی سے رغبت والے معنی اور ذکرُ اللّٰہ کی طرف پھیرا گیا ہے۔
جن دوکا شک سے تعلق ہے:
	تیسری وجہ:جس کا تعلق شک سے ہے۔ اس کا مطلب ہے میں سچا مومن ہوں اِنْ شَآءَاللہُ،کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   نے مخصوص لوگوں کی شان میں ارشاد فرمایا:
اُولٰٓئِکَ  ہُمُ الْمُؤْمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ (پ۹، الانفال:۴)		ترجمۂ کنز الایمان:یہی سچے مسلمان ہیں ۔
	اس آیت سے ثابت ہوا کہ مومنوں کی دو اقسام ہیں (کامل،غیرِ کامل):چنانچہ، شک کمالِ ایمان میں ہے نہ کہ  اصلِ ایمان میں اور کمالِ ایمان میں تو ہر ایک کو شک ہو سکتا ہے، جو کہ کفر نہیں ۔ دو وجہ سے کمالِ ایمان میں شک درست ہے:(۱)…منافقت کمالِ ایمان کو دُور کر دیتی ہے اور نفاق ایک مخفی امر ہے جس سے نجات یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتی۔(۲)…اَعمالِ صالحہ سے ایمان کامل ہوتا ہے اور آدمی کامل طور پر اعمال کے وجود کا علم نہیں رکھتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب استحباب اطالۃ العزۃ…الخ، الحدیث:۲۴۹، ص۱۵۱۔