براسچ:
کسی دانا سے پوچھا گیا: ’’کس سچائی میں برائی ہے؟‘‘ فرمایا: ’’آدمی کا خود پسندی میں مبتلا ہونا۔‘‘ایمان تو بزرگ صفات میں سے ایک عظیم صفت ہے اور اس صفت کا حتمی اقرار مطلقاً خودستائی ہے اور استثنا(یعنی€2پb پ9 €"€„) کے الفاظ گویا اپنی بڑائی بیان کرنے سے بچنے کے لئے ہیں ۔ جیسے کسی شخص سے پوچھا جائے کہ ’’کیا آپ حکیم ہیں یا مفتی یا مفسر؟‘‘ وہ جواب دے: ’’جی ہاں اِنْ شَآءَاللہُ ‘‘ اس طرح کا جواب شک پر مبنی نہیں بلکہ اپنی تعریف خود کرنے سے بچنے کا حیلہ ہے۔ جس سے نفسِ خبر میں ضعف اور تردُّد آ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خبر سے لازم آنے والی چیز کو کمزور کرنا مقصود ہے اور وہ چیز خود ستائی ہے۔ اس تاویل کو مدِّنظر رکھتے ہوئے یہ ذہن نشین رہے کہ اگر کسی سے مذموم صفت کے متعلق پوچھا جائے تو اس کے جواب میں اِنْ شَآءَاللہُنہیں کہا جائے گا۔(۱)
دوسری وجہ:اس کلمہ(اِنْ شَآءَاللہُ) سے مقصود ہر حال میں یادِ الٰہی اور ہر معاملہ مشیت ِ خداوندی کے سپرد کرنا ہے۔جیسے ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے نبی حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تعلیم فرمائی۔ چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ﴿ۙ۲۳﴾ اِلَّا اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ ۫(پ۱۵، الکہف:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر گز کسی بات کو نہ کہنا کہ میں کل یہ کردوں گا مگر یہ کہ اللّٰہ چاہے۔
پھر اس بات کو صرف شک والے کاموں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ ارشادفرمایا:
لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ(پ۲۶،الفتح:۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک تم ضرور مسجد ِ حرام میں داخل ہوگے اگراللّٰہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے بال منڈاتے یا ترشواتے ۔
حالانکہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کو بخوبی معلوم تھا کہ مسلمان لازمی طور پر مکہ میں داخل ہوں گے ،یہی اس کی مشیت بھی تھی،لیکن اس اندازِ بیان سے مقصود اپنے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تعلیم دینا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جیسے پوچھا جائے کہ ’’ کیا تم چور ہو؟‘‘ تو اس کا جواب اِنْ شَآءَاللہُ سے دینا منع ہے۔