Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
384 - 1087
مجھ سے سوال کرنا بدعت ہے۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا علقمہ بن قیس نخعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے پوچھا گیا: ’’کیا آپ مومن ہیں ؟‘‘ تو فرمایا : ’’ اِنْ شَآءَاللہُ مجھے یہی امید ہے۔‘‘  (۲)
	حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی(اپنا مومن ہونا یوں بیان) فرماتے ہیں : ’’ہم اللّٰہعَزَّوَجَلَّ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں ہم کیا ہیں ؟‘‘ (۳)  تواس طرح استثناکے ساتھ اپنے ایمان کو بیان کرنے کا کیا مطلب ہے؟
	جواب: یہ استثنا بالکل درست ہے۔ اس کی چار وجوہات ہیں ۔ دوکا تعلق شک سے ہے لیکن یہاں شک اصلِ ایمان میں نہیں بلکہ خاتمۂ ایمان اور کمالِ ایمان میں ہے اوردو کا شک سے کوئی تعلق نہیں ۔
جن دوکا شک سے تعلق نہیں :
	پہلی وجہ : جس کا شک سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس خوف کی بنا پر حتمی جواب دینے سے اجتناب کیا جاتاہے کہ کہیں اپنے نفس کی پاکیزگی وبڑائی خود بیان کرنا لازم نہ آئے (کہ یہ مذموم ہے)۔
	جیسا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے مبارَک ارشادات ہیں :
{۱}
فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ؕ (پ۲۷، النجم:۳۲)		ترجمۂ کنز الایمان:تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ۔
{۲}
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُزَکُّوۡنَ اَنۡفُسَہُمْ ؕ (پ۵،النسآء:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں ۔
{۳}
اُنۡظُرْ کَیۡفَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الۡکَذِبَ ؕ (پ۵،النسآء:۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان:دیکھو! کیسا اللّٰہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الخامس والثلاثون فیہ ذکر اتصال الایمان…الخ، ج۲، ص۲۳۰۔
2…المرجع السابق۔		
3…المرجع السابق۔