استثناشک ہوتا ہے اور ایمان میں شک کفر ہے۔یہ سب حضرات اپنے مومن ہونے کا جواب قطعیت کے ساتھ نہیں دیتے تھے اور اس سے اجتناب کرتے تھے۔ جیسے،
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں جو کہے: ’’میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں مومن ہوں وہ بڑ ا جھوٹا ہے۔‘‘ اور جو کہے: ’’میں حقیقی مومن ہوں وہ بدعتی ہے۔‘‘ جو حقیقت میں اپنے آپ کو مومن سمجھتاہے وہ جھوٹاکیسے اور حقیقت میں اپنے آپ کو مومن سمجھنے والا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بھی مومن ہے۔ جیسے اگر کوئی حقیقت میں لمبا یا سخی ہے اور وہ اس بات کو جانتا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بھی ایسا ہی ہوگا۔ اسی طرح خوش یا غمگین یا دیکھنے سننے والا بھی ہے۔ اگر کسی انسان سے پوچھا جائے: ’’کیا تم جاندار ہو؟‘‘ تو وہ یہ جواب دینا مناسب نہیں سمجھے گا کہ ’’میں جاندار ہوں اِنْ شَآءَاللہُ ‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے جب یہ بات کہی تو ان سے پوچھا گیا کہ ’’ہم کیا کہیں ؟‘‘ تو فرمایا: ’’تم یوں کہو! ہم ایمان لائے اللّٰہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا۔‘‘ (۲)
یہ قول کہ ’’ہم ایمان لائے اللّٰہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اُترا‘‘ اور ’’میں مومن ہوں ‘‘ ان دونوں جملوں میں کیا فرق ہے؟
اے حسن! تو جھوٹا ہے:
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے پوچھا گیا : ’’کیا آپ مومن ہیں ؟‘‘ جواب دیا: ’’ اِنْ شَآءَاللہُ ‘‘ پھر کہا گیا: ’’اے ابوسعید! اپنے ایمان کا اقرار اِنْ شَآءَاللہُ کے ساتھ کرنے کی کیا وجہ ہے؟‘‘ فرمایا: ’’مجھے ڈر ہے کہ میں ہاں کہوں اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے: اے حسن! تو نے جھوٹ بولا اور مجھ پر کلمۂ الٰہی(یعنی عذابِ خداوندی) لازم ہوجائے۔‘‘
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’مجھے اس بات کا کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے کچھ ناپسندیدہ اعمال دیکھے اور مجھ سے ناراض ہوکر فرما دے: جا! میں تیراکوئی عمل قبول نہیں کرتا اور میں بے فائدہ عمل کرتا رہوں ۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں : ’’جب تم سے پوچھا جائے کہ کیا تم مومن ہو؟ تو تم جواب دو: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ(مُحَمَدٌ رَّسُولُ اللّٰہ)۔ ایک روایت میں ہے یوں کہہ دو: مجھے اپنے ایمان میں شک نہیں اور تیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الخامس والثلاثون فیہ ذکر اتصال الایمان…الخ، ج۲، ص۲۳۰۔
2…المرجع السابق۔
3…المرجع السابق۔