دوسرامعنی:ایمان سے تصدیق اور عمل دونوں مراد لئے جائیں ۔ جیسا کہ رسول کریم، رء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اَ لْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ بَابًا یعنی: ایمان کے 70 سے زائد شعبے ہیں ۔‘‘ (۱)
ایک روایت میں ہے: ’’لَا یَزْنِی الزَّانِی حِیْنَ یَزْنِیْ وَہُوَ مُؤْمِنیعنی:زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا۔‘‘ (۲)
جب ایمان کے معنی میں عمل بھی شامل ہو تو عمل کی کمی بیشی کا خوف نہیں ہوتا۔ اصل ایمان یعنی تصدیقِ قلبی پر بھی کمی بیشی کا اثر ہوتا ہے یا نہیں ؟ یہ غور طلب امر ہے اور ہم نے اشارہ کردیا کہ یہ بھی اس اثر کو قبول کرتا ہے۔
تیسرا معنی:ایمان سے مراد وہ یقینی تصدیق ہو جو کشف، شرح صدر(سینے کے کھلنے) اور نورِ بصیرت کے ساتھ مشاہدہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ قسم زیادتی قبول کرنے سے دور ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ شک وشبہ سے خالی یقینی امر میں بھی اطمینانِ قلب ایک جیسا نہیں ہوتا جیسے دو ایک سے زیادہ ہوتا ہے اور عالَم بنایا ہوا اور حادث ہے ان دونوں باتوں میں اگرچہ کوئی شک نہیں لیکن ان میں یقین کی کیفیت ایک جیسی نہیں ۔ تمام یقینی امور وضاحت اور اطمینانِ قلب کے درجات میں مختلف ہوتے ہیں ۔
ایمان کے ان تینوں معانی سے ثابت ہوا کہ اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَامکا ایمان کے متعلق کمی بیشی کا قول کرنا بالکل درست ہے اور کیوں درست نہ ہو جبکہ حدیث ِ پا ک میں بھی آچکا ہے کہ ’’ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو۔‘‘ (۳)
بعض روایات میں ’’دینار برابر‘‘ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں ۔(۴) اگر قلبی تصدیق میں تفاوت نہ ہو تو ان مختلف مقداروں کے بیان کا کیا مطلب؟
مسئلہ3: ’’ اِنْ شَآءَاللہ ُ‘‘کے ساتھ اپنے مومن ہونے کا اقرارکرنا
سوال:اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ ’’میں مومن ہوں اِنْ شَآءَاللہُ ‘‘ حالانکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان…الخ، الحدیث:۳۵، ص۳۹، ’’شعبۃً‘‘ بدلہ ’’بَابًا‘‘۔
2…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نقصان الایمان…الخ، الحدیث:۵۷، ص۴۸۔
3…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:۴۴، ج۱، ص۲۸۔
4…صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ تعالی وجوہ یومئذٍ ناضرۃ…الخ، الحدیث:۷۴۳۹، ج۴، ص۵۵۴۔