جائے گی کیونکہ یہ عالَمِ ظاہر کے عالَمِ غیب کے ساتھ تعلق کی جنس سے ہیں ۔ ملک سے مراد عالَمِ ظاہر ہے جس کا حواس سے علم ہوتا ہے اور ملکوت سے مراد عالَمِ غیب ہے جسے نورِ بصیر ت سے جانا جا سکتا ہے۔ دل عالَمِ غیب سے اور اعضاء واعمال عالَمِ ظاہر سے ہیں ۔ان دونوں عالَموں میں اس قدَر لطیف تعلق ہے کہ بعض نے ان دونوں کو ایک ہی سمجھا اور بعض نے کہا کہ ’’عالَمِ ظاہر جو اجسامِ محسوسہ پر مشتمل ہے‘‘ کے علاوہ اور کوئی عالَم نہیں ۔ جس شخص نے ان دونوں عالَموں کے وجود اور ان کے الگ الگ ہونے کو جانا اورآپس میں ان کی وابستگی کو سمجھا اس نے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا:
رَقَّ الزُّجَاجُ وَرَقَّتِ الْخَمْرُ وَتَشَابَہَا فَتَشَاکَلَ الْاَمْرُ
فَکَاَنَّمَا خَمْرٌ وَلَا قَدْحٌ وَکَاَنَّمَا قَدْحٌ وَلَا خَمْرٌ
ترجمہ: رقت کے اعتبار سے شیشہ اور شراب ایک دوسرے کے مشابہ ہو گئے، گویا شراب ہے پیالہ نہیں یا پیالہ ہے شراب نہیں ۔
اب ہم دوبارہ اصل مقصود کی طرف آتے ہیں کیونکہ مذکورہ بحث کا علمِ معاملہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن ان دونوں علموں (یعنی علمِ معاملہ وعلمِ مکاشفہ ) کے درمیان بھی تعلق ووابستگی ہے ،اسی وجہ سے تمہیں علومِ مکاشفہ ہر دم علومِ معاملہ کی طرف مائل ہوتے نظر آئیں گے۔ حتی کہ تکلف کے ساتھ ان کا انکشاف بھی ہو جاتا ہے۔ پس ایمان کا یہ وہ معنی ہے جس کی بنا پرطاعت کو زیادتی ٔایمان کا سبب جانا جا سکتا ہے۔
چمکتا نشان اور سیاہ نقطہ:
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ایمان ایک چمکتے نشان کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ بندے کے نیک اعمال اس کی چمک بڑھاتے اور زیادہ کر دیتے ہیں جس سے سارا دل روشن ہو جاتا ہے اور منافقت ایک سیاہ نقظے کی طرح ظاہر ہوتی ہے، بندہ جب حرام کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ نقطہ بڑھ کر زیادہ ہو جاتا ہے، آخر ِکار اس کے پورے دل پر سیاہی چھا جاتی ہے اور اس پر مہر لگ جاتی ہے۔ یہی ختم (یعنی مہر) ہے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت ِ طیبہ تلاوت فرمائی:
کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ (پ۳۰، المطففین:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان: کوئی نہیں ،بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔