جس طرح پہلی قسم والے لوگوں کو نہیں ہوتا لیکن ان دونوں قسم کے لوگوں میں عقیدے کی پختگی کا فرق ہوتا ہے۔ پختگی اورشدت کا یہ فرق ہمارے سچے عقیدے کے حامل لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ عقیدے کی پختگی اور بڑھوتری میں عمل کی وہی اہمیت ہے جو درخت کی نشوونما میں پانی کی ہے۔ اسی لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
فَزَادَتْہُمْ اِیۡمَانًا (پ۱۱،التوبہ:۱۲۴) ترجمۂ کنز الایمان: ان کے ایمان کو اس نے ترقی دی۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
لِیَزْدَادُوۡۤا اِیۡمَانًا مَّعَ اِیۡمَانِہِمْ ؕ (پ۲۶،الفتح:۴) ترجمۂ کنز الایمان:تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے۔
بعض احادیث میں یہ فرمان بھی موجود ہے کہ ’’اَ لْاِیْمَانُ یَزِیْدُوَیَنْقُصُ یعنی: ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔‘‘ (۱) اور یہ گھٹنا بڑھنا دل میں عبادت کی تاثیر کے اعتبار سے ہوتا ہے۔
ایمان گھٹنے بڑھنے کی کیفیت جاننے والا :
اسے صرف وہی شخص معلو م کر سکتا ہے جو حضورِ قلب کے ساتھ کی جانے والی عبادت کے اوقات اور ان کے علاوہ اوقات کا آپس میں موازنہ کرے، تو وہ جان لے گا کہ وقت ِ عبادت ایمان اس قدَر مضبوط ہوتا ہے کہ کسی وسوسہ ڈالنے والے کا وسوسہ اس کو اپنی گرفت میں نہیں لے سکتا۔ اسی طرح یتیم پر شفقت کا اعتقاد رکھنے والا شخص اپنے اعتقاد پر عمل کرتے ہوئے یتیم کے سر پر دست ِ شفقت پھیرے اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے تو وہ اپنے اس عمل کے سبب دل میں اعتقادِ شفقت کو مزید مضبوط ہوتا محسوس کرے گا۔ یونہی عاجزی کا خوگر جب عاجزی والا عمل کرے گا یا دوسرے کے سامنے عاجزی وانکساری کرے گا تو اسے اپنے اس عمل کی بنا پر دل میں عاجزی کی زیادتی محسوس ہو گی۔
عالم ظاہر اور عالم غیب:
یہی حال تمام قلبی صفات کا ہے۔ ان صفات کے زیر اثر اعضاء عمل کرتے ہیں پھر اعمال کا اثر ان صفات پر پڑتا ہے جو انہیں مضبوط اور زیادہ کرتا ہے۔ اس کا مزید بیان نجات دینے والے اعمال اور ہلاک کرنے والے اعمال کے باب میں آئے گا جہاں باطن کے ظاہر کے ساتھ اور اعمال کے عقائد وقلوب کے ساتھ وابستہ ہونے کی وجہ بھی بیان کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الکامل فی ضعفاء الرجال، احمد بن محمد بن حرب، الرقم:۴۶، ج۱، ص۳۳۰۔