Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
379 - 1087
مسئلہ2:		   ایمان گھٹتا بڑھتا ہے یا نہیں 
	سوال:اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَامکا یہ متفقہ قول ہے کہ ایمان کی کمی زیادتی ہوتی ہے ۔ عبادات سے بڑھتا اور گناہوں سے گھٹتا ہے۔ جب تصدیقِ قلبی ہی ایمان ہے تو پھر اس میں کمی بیشی کیسی؟
	جواب:اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام عادل اور ہمارے لئے دلیلِ راہ ہیں ۔ ان کے فرامین حق پر مبنی ہیں ۔ جن سے روگردانی کسی بھی مسلمان کو روا نہیں ۔ ضرورت ان کی بات سمجھنے کی ہے۔ ان کا فرمان اس بات پر دلیل ہے کہ عمل ایمان کا جز یا اس کا رکن نہیں بلکہ ایک اضافی چیز ہے، جس سے ایمان بڑھ جاتا ہے۔ ایمان میں کمی بیشی کرنے والے افعال موجود ہیں ۔ یاد رہے کہ کسی بھی چیز کی ذات میں اضافہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جائے گا کہ انسان سر سے بڑھتا ہے بلکہ یوں کہا جائے گا کہ انسان داڑھی اور موٹاپے میں بڑھتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جائے گا کہ نماز رکوع وسجود سے بڑھتی ہے بلکہ کہا جائے گا کہ اس میں سنتوں اور آداب سے اضافہ ہوتا ہے۔لہٰذا اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے قول سے اس بات کی صراحت ہوتی ہے کہ ایمان کا ایک وجود ہے،پھر وجود کے بعدکمی بیشی سے اس کا حال مختلف ہوتا ہے۔
	سوال:اعتراض ابھی بھی باقی ہے کہ تصدیقِ قلبی ایک خصلت ہے،اس میں کمی بیشی کا امکان کیسے؟ جواب: اگر دوغلے پن کو چھوڑ کر اورفسادیوں کے شوروشغب سے بے پرواہ ہو کر حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے تو اعتراض دور ہو سکتا ہے۔ سنئے! لفظ ِ ایمان اسمِ مشترک ہے(یعنی وہ اسم جس کے کئی معانی ہوں ) ،یہ تین معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
	پہلا معنی: اس تصدیقِ قلبی کو ایمان کہا جاتا ہے جو عقیدے اور تقلید کے طور پر ہو، اس میں اسرار ورموزپر مطلع ہونا اور ایمان کے متعلق گہرائی سے جاننا شامل نہیں ہوتا۔ ایمان کا یہ درجہ عوام بلکہ ہر مخلوق کو حاصل ہوتا ہے۔ خواص اس سے اوپر ہیں ۔ اس درجے کا اعتقاد دل پر دھاگے کی گرہ کی طرح ایک گرہ ہے جو کبھی سخت ومضبوط ہو جاتی ہے اور کبھی نرم وکمزور پڑ جاتی ہے اور ایسا ہونا ممکن ہے۔ جیسے اپنے عقائد میں متشدد یہودی، عیسائی یا بدمذہب کی مثال لے لیجئے جسے اس کے مذہب سے ہٹانے کے لئے کوئی دھمکی کارگر نہیں ہوتی۔ وساوس،تحقیق ودلیل اور وعظ ونصیحت اس کے لئے بے اثر ہوتے ہیں ۔ لیکن بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو مختصر سی گفتگو سے بھی شک میں پڑ جاتے ہیں ۔ ذرا سی دھمکی یا لچکدار کلام کے سبب وہ اپنے عقائد کو چھوڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں اپنے عقائد میں شک نہیں ہوتا