Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
378 - 1087
فرمان ہے:
{۵}
وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا (پ۵،النسآء:۹۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے۔
	(ہمیشہ کے لئے جہنمی وہ قاتل ہوگا جو کسی مومن کو) مومن ہونے کے ناطے قتل کرے۔اس آیت ِ مبارَکہ کا شانِ نزول بھی یہی ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اس تمام بحث سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایمان میں عمل کا دخل نہیں ، حالانکہ اکابرین ملت سے منقول ایمان کی یہ تعریف مشہور ہے کہ ’’ ایمان تصدیقِ قلبی،اقرارِ لسانی اور اعمالِ صالحہ کا نام ہے۔پھر اس کا کیا مطلب ہوا؟جواب: اعمالِ صالحہ کو ایمان میں شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ ایمان کو مکمل اور تمام کرنے والے ہیں ۔ جیسے کہاجاتا ہے: ’’ سر اور دونوں ہاتھ انسان سے ہیں ۔‘‘یہ توسب جانتے ہیں کہ اگر سر نہیں تو انسان بھی نہیں ۔ لیکن اگر ہاتھ نہ ہوں تووہ انسان ہونے سے خارج نہیں ہوجاتا۔اسی طرح یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ’’ تکبیراتِ انتقالات اور تسبیحات نماز سے ہیں اگرچہ ان کا ترک نماز کو باطل نہیں کرتا۔‘‘ تصدیق بالقلب ایمان میں اس طرح ہے جس طرح وجودِ انسانی کے لئے سر کہ اگر تصدیق نہیں تو ایمان بھی نہیں اور بقیہ طاعات دیگر اعضائے جسمانی کی طرح ہیں ۔جن میں سے بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔
	نیز حضور نبی ٔکریم، رء وف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’لَایَزْنِی الزَّانِی حِیْنَ یَزْنِیْ وَہُوَ مُؤْمِن یعنی: زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا۔‘‘  (۱)
	صحابۂ کرام  رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن معتزلہ کی طرح زانی کو کافر نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ کامل، پورا اور حقیقی مومن نہیں ۔ جیسے کٹے ہوئے اعضاء والے مجبور شخص کو کہا جائے:’’ یہ انسان نہیں ۔‘‘ یعنی حقیقت ِ انسانیت کے بعد اسے انسانی کمال کا درجہ حاصل نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم، کتاب الایمان باب بیان نقصان الایمان…الخ، الحدیث:۵۷، ص۴۸۔