Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
377 - 1087
 جَہَنَّمَ     (پ۲۹،الجن:۲۳)			تو بے شک ان کے لئے جہنّم کی آ گ ہے ۔
	مذکورہ آیاتِ بینات میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے ایمان کے ساتھ عملِ صالح کا بھی ذکر فرمایاـ۔
{۶}
وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے۔ (پ۵،النسآء:۹۳)
مذکورہ دلائل کے جوابات:
	مذکورہ دلائلِ قرآنیہ کے عموم میں بھی ذیل کی آیات کے سبب تخصیص ہے۔
{۱}
وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ (پ۵،النسآء:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔
	اس آیت کی رو سے کفر وشرک کے علاوہ گناہوں کی مغفرت مشیت ِالٰہی پر منحصر ہے۔
{۲}اسی طرح سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو۔‘‘  (۱)
{۳}
اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ﴿ۚ۳۰﴾ (پ۱۵، الکہف:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم ان کے نیگ(اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں ۔
{۴}
اِنَّ اللہَ لَایُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ (پ۱۱،التوبہ:۱۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللّٰہ نیکوں کا نیگ(اجرو انعام)   ضائع نہیں کرتا۔
	اب بتائیے! ایک گناہ کے سبب اصل ایمان اور تمام عبادات کا اجر کیسے ضائع کردیا جائے گا؟ اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:۴۴، ج۱، ص۲۸۔