کُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیۡہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمْ یَاۡتِکُمْ نَذِیۡرٌ ﴿۸﴾ (پ۲۹،الملک:۸)
ترجمۂ کنز الایمان: جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے۔
یہاں فوج سے کفار کی فوج مراد ہے اور عام کو خاص کرنا جائز ہے۔ اس آیت ِ مقدسہ کو دلیل بنا کر حضرت سیِّدُنا امام ابوالحسن اشعری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اور کچھ متکلمین نے الفاظ کے عموم کا انکار کر دیا اور کہا: ’’ایسے الفاظ میں اس وقت تک توقف اختیار کیا جائے جب تک ان کے معنی پر دلالت کرنے والا کوئی قرینہ نہ پایا جائے۔‘‘
معتزلہ کاشبہ اور ان کے دلائل:
ان کے نزدیک گناہ کبیرہ کا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج اور ہمیشہ جہنم میں رہے گا لیکن کافر نہیں ہے۔درج ذیل آیاتِ طیبات بطور دلیل پیش کرتے ہیں :
{۱}
وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿۸۲﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔ (پ۱۶،طٰہٰ:۸۲)
{۲}
وَالْعَصْرِ ۙ﴿۱﴾ اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسْرٍ ۙ﴿۲﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ(پ۳۰،العصر:۱تا۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اس زمانۂ محبوب کی قسم!بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے، مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے۔
{۳}
وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾ (پ۱۶، مریم:۷۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو،تمہارے ربّ کے ذمّہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔
{۴}…پھر ارشادفرمایا:
ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا(پ۱۶، مریم:۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے۔
{۵}
وَ مَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے ،