{۲}
وَ مَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ﴿ؕ۲۳﴾ (پ۲۹،الجن:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے ، تو بیشک ان کے لئے جہنّم کی آ گ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں ۔
اس آیت ِ مبارَکہ کو کفار کے ساتھ خاص کرنا ہٹ دھرمی ہے۔
{۳}
اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۴۵﴾ (پ۲۵،الشورٰی:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:سنتے ہو!بے شک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں ہیں ۔
{۴}
وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَکُبَّتْ وُجُوۡہُہُمْ فِی النَّارِ ؕ (پ۲۰،النمل:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو بدی لائے تو ان کے منہ اوندھائے گئے آ گ میں ۔
عمومی حکم پر مشتمل ان آیات میں ان دلائل کے جوابات ہیں جن سے فرقہ مرجئہ نے عموم ثابت کیا۔ ان دونوں طرف کے دلائل میں تاویل وتخصیص کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ’’روایات میں گناہ گاروں کے عذاب میں مبتلا ہونے کی صراحت ہے۔‘‘ (۱) بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
(پ۱۶،مریم:۷۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔
مذکورہ فرمانِ باری تعالیٰ میں صراحت ہے کہ یہ حکم سب کے لئے ہے کیونکہ (سوائے خاص لوگوں کے )کوئی بھی مومن تمام گناہوں سے نہیں بچ سکتا۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لَا یَصْلٰىہَاۤ اِلَّا الْاَشْقَی ۙ﴿۱۵﴾ الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۶﴾ (پ۳۰،اللیل:۱۵،۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان:نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت،جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
اس آیت ِکریمہ میں مخصوص گروہ یا ایک معین بدبخت شخص مراد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب ماجاء فی قول اللّٰہ تعالی انّ رحمۃ اللّٰہ…الخ،الحدیث:۷۴۵۰، ج۴، ص۵۵۹۔