Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
374 - 1087
{۵}
مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیۡرٌ مِّنْہَا ۚ وَہُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴿۸۹﴾    (پ۲۰،النمل:۸۹)
ترجمۂ کنز الایمان: جو نیکی لائے اس کے لئے اس سے بہتر صلہ ہے اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے ۔
	ایمان تو تمام نیکیوں کی بنیاد ہے اور فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
{۶}
وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۱۳۴﴾ۚ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۳۴)		ترجمۂ کنز الایمان:اور نیک لوگ اللّٰہ کے محبوب ہیں ۔
{۷}
اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ﴿ۚ۳۰﴾ (پ۱۵، الکہف:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم ان کے نیگ(اجر)ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں ۔
مذکورہ دلائل کے جوابات:
	ان آیات سے اُن کا موقف ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ مذکورہ آیات میں جہاں ایمان کا ذکر ہے وہاں (محض ایمان نہیں بلکہ) ایمان بمع عمل مراد ہے۔جیسا کہ ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ لفظ ِ ایمان کبھی اسلام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور وہ دل،زبان اور اعمال کی موافقت کا نام ہے اوراس تاویل پر وہ بہت ساری روایات دلیل ہیں جن میں گناہگاروں کا انجام اور عذاب کی مقدار کا بیان ہے۔نیزیہ حدیث ِ پاک کہ ’’جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو۔‘‘ (۱) اگر داخل ہی نہ ہوا تو نکالے جانے کا کیا مطلب؟
{۱}
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ› (پ۵، النسآء:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللّٰہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔
	قرآنِ پاک کے ان الفاظ ’’جسے چاہے معاف فرما دے‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ جسے نہ چاہے گا نہ بخشے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:۴۴، ج۱، ص۲۸۔