Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
373 - 1087
قرآن کے عمومی حکم سے شبہ میں پڑ گئے۔جیسے
فرقۂ مرجئہ کا شبہ اور ان کے دلائل:
	کوئی بھی مومن جہنم میں نہیں جائے گا، اگرچہ کتناہی گنہگار کیوں نہ ہو۔
{۱}
فَمَنۡ یُّؤْمِنۡۢ بِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَہَقًا ﴿ۙ۱۳﴾ (پ۲۹،الجن:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تو جو اپنے ربّ پر ایمان لائے اسے نہ کسی کمی کا خوف نہ زیادتی کا۔
{۲}
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَ رُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ  ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ٭ۖ (پ۲۷،الحدید:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اللّٰہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچّے ۔
{۳}
کُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیۡہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمْ یَاۡتِکُمْ نَذِیۡرٌ ﴿۸﴾ قَالُوۡا بَلٰی قَدْ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ۙ فَکَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ(پ۲۹،الملک:۸،۹)
ترجمۂ کنز الایمان: جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا۔کہیں گے کیوں نہیں بے شک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے،پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا اللّٰہ نے کچھ نہیں اوتارا۔
	مذکورہ آیت ِ مبارکہ میں (کُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیۡہَا فَوْجٌ)کے الفاظ میں عموم ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں ہر پھینکا جانے والا شخص وہی ہو جو جھٹلاتا ہو۔
{۴}
لَا یَصْلٰىہَاۤ اِلَّا الْاَشْقَی ۙ﴿۱۵﴾ الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۶﴾ (پ۳۰،اللیل:۱۵،۱۶) 
ترجمۂ کنزالایمان:نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت،جس نے جھٹلایا اور منھ پھیرا۔
	اس آیت ِ مقدسہ میں حصر،اثبات اور نفی ہے۔