غورطلب مسائل:
تیسرے امر میں ہمیں شک ہے یعنی وہ دنیوی حکم جو اس بندے اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّکے درمیان ہے جیسے اسی حالت (یعنی صرف زبانی قبولِ اسلام ہے قلبی نہیں ) میں اس کا کوئی قریبی مسلمان رشتہ دار فوت ہو جائے، پھر وہ دل سے ایمان لے آئے اور اپنے بارے میں فتویٰ لیتے ہوئے کہے کہ ’’ میں اپنے رشتہ دار کی فوتگی کے وقت دل سے مومن نہیں تھا اور اب وراثت میرے قبضے میں ہے، تو کیا عنداللّٰہ یہ وِرثہ میرے لئے حلال ہے؟‘‘ یا وہ شخص کسی مسلمان عورت سے نکاح کرنے کے بعد دل سے مومن ہوتا ہے توکیا اس نکاح کا اعادہ کرنا ہو گا؟ یہ مسائل غور طلب ہیں ۔ممکن ہے ان مسائل کا جواب یوں دیا جائے:دنیاوی احکام کے ظاہر وباطن کا دارومدار ظاہر پر ہے۔ یا یہ جواب دیا جائے کہ ظاہر کا حکم دوسروں کے لئے ہے کیونکہ وہ اس کی قلبی کیفیت پر مطلع نہیں ہو سکتے اور خود اس کے لئے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے اس کا باطن، ظاہر ہے۔ حقیقی علم تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے اور ہمارے نزدیک ظاہر یہی ہے کہ یہ مالِ وراثت اس شخص کے لئے حلال نہیں اور اس پر نکاح کا اعادہ لازم ہے۔اسی بنا پر حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منافقین کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اس چیز کا خیال رکھتے اور جس جنازے میں حضرت حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شرکت نہ کرتے آپ بھی نہ جاتے اور نماز دنیا میں ایک ظاہری عمل ہے اگرچہ عبادات میں سے ہے اور حرام سے اجتناب بھی ان امور میں سے ہے جو نماز کی طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے واجب کردہ ہیں ۔ جیسا کہ،
حضورنبی ٔ پاک ، صاحب ِ لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’طَلْبُ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ یعنی: رزقِ حلال کی تلاش ایک فرض کے بعد دوسرا فرض ہے۔‘‘ (۱)
اور ہمارا یہ کہنا اس قول کے خلاف نہیں ہے کہ وراثت اسلام کاحکم ہے اور اسلام ،تسلیم کا نام ہے۔بلکہ مکمل تسلیم تو وہ ہے جو ظاہر وباطن دونوں کو شامل ہو۔ یہ ابحاث فقہی اور ظنی ہوتی ہیں ، ان کا دارومدار ظاہری الفاظ، عمومی ابحاث اورقیاسات پر ہوتا ہے۔ لہٰذا کم علم اس خیال میں نہ رہے کہ یہاں قطعی حکم تک رسائی مطلوب ہے جیسے علمِ کلام میں قطعیت طلب کرنے کا رواج ہے۔تو جو شخص علوم میں رسوم وعادات کی طرف نظر کرتا ہے فلاح نہیں پاتا۔
سوال:معتزلہ اورمرجئہ فرقوں کا شبہ کیا ہے؟ اور ان کا موقف باطل ہونے کی کیا دلیل ہے؟جواب:یہ فرقے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی، باب فی حقوق الاولاد والاھلین، الحدیث:۸۷۴۱، ج۶، ص۴۲۰۔