Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
371 - 1087
	نیزحدیث ِ جبریل میں ایمان کے لئے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ، اس کے فرشتوں ،کتابوں اور روزِ آخرت کی تصدیق کے سوا کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا۔
	پانچواں درجہ: کسی شخص نے دل سے تصدیق کی، پھر اسے زبان سے کلمات ِشہادت ادا کرنے کا موقع بھی ملا اور اسے اس کے وجوب کا بھی علم تھالیکن ادا نہ کیا۔تو ممکن ہے اس نے اس کی ادائیگی سے اسی طرح غفلت برتی ہو جس طرح نماز سے غفلت برتتا ہے۔ لہٰذا ہم اسے مومن اور جہنم میں ہمیشہ نہ رہنے والا کہیں گے ۔ کیونکہ ایمان محض تصدیقِ قلبی کا نام ہے، جبکہ زبان ایمان کی ترجمان ہے۔ اس بنا پر لازم ہے کہ ایمان زبان کی ادائیگی سے قبل ہی تام مانا جائے تاکہ زبان اس کی ترجمانی کر سکے۔ یہی موقف سب سے زیادہ ظاہر ہے۔کیونکہ ہمارے پاس الفاظ ِحدیث کے معانی کی اتباع کے سوا حکم بیان کرنے کی کوئی سند نہیں ۔ لغوی اعتبار سے بھی ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے اور حضور پرنور، شافع یوم النشورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو۔‘‘(۱)
	جس طرح دیگر واجبات کے ترک سے ایمان ختم نہیں ہوتا اسی طرح ایمان کے بارے میں زبانی شہادت کا وجوب ترک کر دینے سے دل ایمان سے خالی نہیں ہوجاتا۔بعض نے کہا: زبان سے اقرار کرناایمان کا رکن ہے کیونکہ کلمات شہادت دل کی خبر نہیں دیتے، بلکہ وہ دوسرے معاملے کی انشاء اور شہادت والتزام کی ابتدا ہیں ۔ لیکن پہلا قول (یعنی ہمارا موقف)ہی سب سے زیادہ واضح ہے۔
	اس مسئلے میں مرجئہ فرقے نے تو حدیں ہی پارکر دیں اور یہ موقف اختیار کیا کہ یہ شخص جہنم میں جا ہی نہیں سکتا۔وہ کہتے ہیں : مومن چاہے گناہ گار ہی کیوں نہ ہو،جہنم میں نہیں جائے گا۔ہم عنقریب ان کے موقف کا رد پیش کریں گے۔
	چھٹا درجہ: کوئی شخص زبا ن سے تولَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہکہے لیکن دل سے اس کی تصدیق نہ کرے توایسا شخص اخروی حکم کے اعتبارسے بلاشک وشبہ کافر اور ہمیشہ کے لئے جہنمی ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شخص امرا وخلفا سے تعلق رکھنے والے دنیاوی احکام میں مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اس کی قلبی کیفیت پر آگاہ نہیں ہوا جاسکتا۔ لہٰذا ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ ہم اس کی قلبی حالت کو بھی ویسا ہی جانیں جیسا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:۴۴، ج۱، ص۲۸۔