اعمال کا دوبارہ سے ذکر تکرار کے حکم میں ہوگا اور حیرت ہے کہ شیخ ابوطالب مکی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اپنے موقف کو اجماعی بھی قرار دیتے ہیں اور یہ حدیث ِپاک بھی ذکر کرتے ہیں : ’’لَا یَکْفُرُ اَحَدٌ اِلَّا بَعْدَ جُحُوْدِہٖ لِمَا اَقَرَّ بِہٖیعنی:کوئی بھی مسلمان اس وقت تک کافر نہیں ہوگا جب تک وہ اقرار کی ہوئی چیز کا انکار نہ کرے۔‘‘ (۱)
شیخ ابوطالب مکی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی معتزلہ کے اس عقیدے ’’کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہے گا‘‘ کا ردکرتے ہیں حالانکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہکے موقف کا قائل مذہب ِمعتزلہ کا قائل ہے۔ کیونکہ اگر آپ کے مذہب کے قائل سے پوچھا جائے کہ ’’جو شخص دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرتے ہی(بغیر کوئی عمل کئے) فوت ہوجائے تو کیا وہ جنتی ہے؟‘‘ تو اس کا جواب لازماً اثبات میں ہوگا۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ ایمان بغیر عمل کے پایا جاتا ہے۔
ہم اپنے سوال کو طول دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس شخص کو اس قدر مزید زندگی مل جائے کہ وہ ایک نماز کا وقت پالے لیکن قضا کردے ،یا زنا کا مرتکب ہو اور پھر مرجائے تو کیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو معتزلہ کا بھی یہی عقیدہ ہے اور نہ کی صورت میں ثابت ہوگیا کہ اعمالِ صالحہ نفسِ ایمان کے لئے نہ رکن ہیں نہ اس کے وجود کے لئے شرط اور نہ ہی جنت کا استحقاق ان پر موقوف۔اگر جواب دینے والا کہے کہ میری مراد یہ ہے کہ اگر وہ شخص طویل مدت تک زندہ رہے ،نہ نماز پڑھے اور نہ دیگر شرعی احکام کی پیروی کرے (تب اس پر ہمیشہ کے لئے جہنمی ہونے کا حکم لگے گا) تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ وہ مدت کتنی ہو گی؟ کتنی مقدار میں طاعات کا ترک اور کس قدر کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ایمان کو باطل کر دیتا ہے؟ یہ تعداد نہ متعین ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی طرف کسی نے رجوع کیا۔
چوتھا درجہ: کسی شخص نے دل سے تصدیق کی لیکن زبانی شہادت ادا کرنے اور اعمالِ صالحہ بجا لانے سے پہلے ہی اسے موت آ گئی تو کیا وہ بارگاہِ خداوندی میں مومن شمار ہو گا؟ اس میں اختلاف ہے۔ زبانی اقرار کو تکمیلِ ایمان کے لئے شرط قرار دینے والے حضرات کہتے ہیں : ’’اس شخص کو ایمان سے پہلے موت آئی ہے۔‘‘ لیکن ان کا یہ قول غلط ہے کیونکہ نبیوں کے تاجور، محبوب رب اکبرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو۔‘‘ (۲) اس شخص کا دل تو ایمان سے لبریز ہے تو پھروہ ابدی جہنمی کیسے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، من اسمہ عبداللّٰہ، الحدیث:۴۴۳۳، ج۳، ص۲۳۲۔
2…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:۴۴، ج۱، ص۲۸۔