Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
37 - 1087
ہے بلکہ تمام لوگ ہی اس میں   ملوث ہیں یعنی آخرت کی عظمت جاننے سے قاصر اور اس بات سے بے خبر ہیں کہ آخرت کا معامَلہ بہت سنگین اور مصیبت سخت ہے۔ آخرت سامنے آ رہی اور دنیا پیٹھ پھیرے جا رہی ہے۔ موت قریب ہے۔ سفر دور کا اور زادِ راہ معمولی ہے۔ خطرہ بہت زِیادہ اور رَاستہ بھی بند ہے اور پَرَکھنے والے صاحب ِ بصیرت کے نزدیک وہ علم وعمل نامقبول ہے جو خالص رِضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ کثیر ہلاکتوں اور مصیبتوں کی موجودگی میں   آخرت کے راستے پر بغیر کسی راہنما اور رفیق کے چلنا بہت مشکل اور باعث ِتھکن ہے۔ اس راستے کے راہنما علما ہیں جو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں ۔ لیکن اَب زمانہ ان سے خالی اور صرف رسمی لوگ باقی ہیں ۔ ان میں   سے اکثر پر شیطانیت کا غلبہ ہے اور سرکشی نے انہیں گمراہ کر رکھا ہے ۔ ہر ایک فوری فائدے کے حصول کی کوشش میں   نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی سمجھتا ہے یہاں تک کہ علمِ دین ناپید ہو گیااور زمین سے ہدایت کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے لوگوں کو یہ تصوُّر دیا کہ علم حکومت کا فتویٰ ہے کہ جب احمقوں میں   فساد ہو جاتا ہے تو قاضی جھگڑوں کے فیصلوں میں   اس سے مدد طلب کرتے ہیں ۔ یا بحث ومباحثہ اور مناظرے کا نام علم ہے جسے فخر وبڑائی کا طالب مخالف پر غلبہ پانے اور اس کو ساکت ولاجواب کرنے کے لئے زرہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یا مقفی ومسجع کلام کرنے کا نام علم ہے جس کے ذریعے واعظ لوگوں کو دھوکے میں   مبتلا کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان تین کے سوا حرام مال اور سامانِ دنیا اکٹھا کرنے کاکوئی جال نہیں ۔
	راہِ آخرت کا علم جس پر سلف صالحین چلا کرتے تھے، جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے اپنی کتاب میں   فقہ، حکمت، علم، روشنی، چمک اور رُشد و ہدایت کا نام دیا ہے وہ مخلوق کے درمیان سے لپیٹ دیا گیا اور اسے بالکل بھلا دیا گیا ہے۔ چونکہ یہ بات دین میں  مضبوط رخنہ اور نہایت تاریک مصیبت ہے اس لئے میں   اس کتاب کو لکھنے میں   مشغول ہوا تاکہ دینی علوم کو زندہ کروں اور متقدمین ائمہ کے راستوں اورانبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے نزدیک نفع مند علوم کی عظمت کو واضح کروں ۔
کتاب کی ترتیب اور ابواب بندی:
	میں   نے اس کتاب کو بنیادی طور پرچار حصوں میں   تقسیم کیا ہے: (۱)عبادات(۲)عادات (۳) مُہْلِکَات(یعنی