Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
369 - 1087
	ہاں ! اس بارے میں اختلاف ہے کہ مذکورہ حکمِ اخروی کس پر مرتب ہو گا یعنی اس ایمان کی کیا تعریف ہے (جو جہنم سے نکالنے اور اس میں ہمیشہ رہنے سے بچانے کا کام دے گا)؟
{1}…کسی نے کہا:ایمان محض تصدیقِ قلبی کا نا م ہے۔
{2}…کسی نے کہا: دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ہے۔
{3}…کسی نے تیسری چیز یعنی اعضاء کے ساتھ عمل کرنے کا بھی اضافہ کیا۔
	پہلا درجہ: ہم اصل بات کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو شخص ان تینوں باتوں (تصدیق،اقرار اور اعمالِ صالحہ) پر کاربند ہو، وہ بلااختلاف جنتی ہے۔ یہ ایک درجہ ہوا۔
	دوسرا درجہ: دو باتیں موجود ہوں اور تیسری کا کچھ حصہ ہو یعنی تصدیق واقرار اور کچھ اعمالِ صالحہ ہوں اور اس شخص سے ایک یا ایک سے زیادہ کبیرہ گناہ بھی سرزد ہوئے ہوں تواس کے بارے میں معتزلہ کہتے ہیں کہ یہ شخص فاسق، دائرۂ اسلام سے خارج اور ہمیشہ کا جہنمی ہے لیکن کافر نہیں ۔ اس کا ایک تیسرا مقام ہے (یعنی نہ مومن ہے نہ کافر) معتزلہ کا یہ قول باطل ہے ،ہم عنقریب اس کی وضاحت کریں گے۔
	تیسرا درجہ: تصدیقِ قلبی اور شہادتِ لسانی پائی جائے لیکن اعضاء سے اعمال کا وجود نہ ہو تو ایسے شخص کے حکم میں اختلاف ہے۔
اَعمالِ صالحہ جزوِ ایمان نہیں :
	حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’اعمالِ صالحہ جزوِ ایمان ہیں ، ان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہنے اپنے اس موقف پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے اورایسے دلائل پیش کئے ہیں جو انہی کے موقف کے خلاف جاتے ہیں ۔ جیسے ان کا اس دلیلِ قرآنی کو پیش کرنا:
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ  اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ۚ›(پ۱،البقرۃ:۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنت والے ہیں ۔
	اس آیت سے تویہ پتاچلتاہے کہ اعمالِ صالحہ کا درجہ ایمان کے بعد ہے، وہ نفسِ ایمان میں شامل نہیں ، وگرنہ