اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو کوئی چیز عنایت فرمائی اور دوسرے کو عطا نہ فرمائی تو میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے فلاں شخص کو چھوڑ دیا اسے نہ دیا حالانکہ وہ بھی مومن ہے؟‘‘ توآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’یا مسلمان۔‘‘ میں نے دوبارہ یہی عرض کی اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر وہی ارشادفرمایا :’’یا مسلمان(۱)۔‘‘ (۲)
دونوں کے ایک دوسرے کے معنی کو شامل ہونے کی مثالیں :
بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی کہ ’’کون سا عمل افضل ہے؟‘‘ تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’اسلام۔‘‘ پھر عرض کی گئی: ’’کون سا اسلام افضل ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ایمان۔‘‘ (۳)
مذکورہ روایت سے ثابت ہوا کہ اسلام وایمان معنی میں مختلف بھی ہیں اور ایک دوسرے میں شامل بھی اور یہ استعمال لغت کے اعتبار سے بہت اچھا ہے۔ کیونکہ ایمان ایک عمل بلکہ افضل عمل ہے اور اسلام تسلیم کرنے کانام ہے خواہ دل سے ہو یا زبان سے یا دیگر اعضاء سے اور اس تسلیم میں سے بہتر دل کی تسلیم ہے جسے تصدیق اور ایمان کا نام دیا جاتا ہے۔
تیسری بحث : حکم شرعی کا بیان
اسلام اور ایمان کے دو حکم ہیں : (۱)…اخروی(۲)…دنیوی۔
اُخروی حکم:جہنم سے نکالنا اور اس میں ہمیشہ رہنے سے بچانا۔ جیسا کہ فرمانِ مصطفٰے ہے: ’’جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مفسرشہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یارخان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح ، ج 5، ص600 پر فرماتے ہیں :’’اس فرمان عالی میں ان صاحب کے ایمان کی نفی نہیں بلکہ حضرت سعد کو تعلیم ہے کہ کسی کے متعلق اس کے ایمان کی گواہی قطعی نہ دو کہ ایمان دلی تصدیق کا نام ہے جس پراللّٰہ تعالیٰ ہی خبردار ہے ۔اسلام ظاہر کانام ہے تم اس کی گواہی دے سکتے ہو خیال رہے کہ کبھی ایمان واسلام ہم معنی آتے ہیں اور کبھی ان میں فرق کیا جاتا ہے کہ دلی عقیدوں کا نام ایمان ہوتا ہے اور ظاہری اطاعت کا نام اسلام یہاں دوسرے معنی مراد ہیں ۔
2…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تألف قلب من یخاف…الخ، الحدیث:۱۵۰، ص۸۹۔
3…المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الشامیین،حدیث زید بن خالدالجھنی،الحدیث:۱۷۰۲۴،ج۶،ص۵۸، باختصارٍ۔
4…صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:۴۴، ج۱، ص۲۸۔