Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
367 - 1087
یہی پانچ چیزیں ارشاد فرمائیں (۱)۔(۲)
دونوں کے جداجدامعنی میں استعمال ہونے کی مثالیں :
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمْ تُؤْمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسْلَمْنَا (پ۲۶،الحجرٰت:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:گنوار بولے ہم ایمان لائے تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے ۔ہاں ! یوں کہو کہ ہم مطیع ہوئے۔
	یعنی یوں کہو کہ ہم ظاہراً دین اسلام کی طاعت قبول کرتے ہیں ۔ مذکورہ آیت ِ کریمہ میں ایمان سے فقط تصدیقِ قلبی مراد ہے اور اسلام سے مراد ظاہری طور پر زبان اور دیگر اعضاء سے طاعت قبول کرنا ہے۔
{2}…حدیث ِجبریل: جب حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے ایمان کے بارے میں سوال کیا تو رحمت ِعالمیان،  سرورِ کون ومکانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلَاءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَبِالْحِسَابِ وَبِالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖیعنی: ایمان یہ ہے کہ تو اللّٰہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، یومِ آخرت، مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے، حساب وکتاب اور ا س بات پر ایمان لائے کہ اچھی بری تقدیر اسی(یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ) کی طرف سے ہے۔‘‘  (۳)
	پھرانہوں نے اسلام کے متعلق پوچھاتو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پانچ چیزوں کا ذکر فرمایا اور ظاہری قول وعمل کے ساتھ ماننے کو اسلام کا نام دیا۔
{3}…حضرت سیِّدُنا سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک بار محبوب رب العزت، مخزن جود وسخاوتصَلَّی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…(قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)اِنَّ الْایْمَانَ بُنِیَ عَلٰی خَمْسٍ:تَعْبُدَ اللَّہَ ، وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ ، وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ ، وَتَحُجَّ ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ ۔کَذَلِکَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہِ وسلَّم یعنی: (حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :) بلاشبہ ایمان کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:اللّٰہ کی عبادت کرنا،نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنااور رمضان کے روزے رکھنا۔اسی طرح رسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہِ وسلَّم  نے ہمیں ارشاد فرمایا۔ (مصنَّف ابن ابی شیبہ، کتاب الجہاد، باب ماقالوافی الغزوواجب ہو،الحدیث:۸،ج۴،ص۶۰۰)
2…السنن الکبری للبیھقی، کتاب الصیام، باب فرض صوم شہر رمضان، الحدیث:۷۸۹۳، ج۴، ص۳۳۵۔
3…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان الایمان والاسلام…الخ، الحدیث:۸، ص۲۲۔
	المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن العباس…الخ، الحدیث:۲۹۲۷، ج۱، ص۶۸۳۔