Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
365 - 1087
چوتھی فصل:   ایمان اور اسلام کے مابین اتصال وانفصال ،ان کے گھٹنے 
بڑھنے اور اسلاف کا اس میں (اِنْ شَآءَاللہُ کے ساتھ ) استثنا کرنے 
کی وجہ کا بیان 
مسئلہ1:				ایمان واسلام دو چیزیں ہیں یا ایک؟
	اس میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اسلام ہی ایمان ہے یا اس سے جداہے؟ اور اگر جدا ہے تو کیا ایمان کے بغیر بھی اس کا وجود ممکن ہے یا اس کے ساتھ وابستہ ولازم ہے؟اس کے جواب میں کئی اقوال ہیں :
{1}…اسلام وایمان ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔
{2}…یہ دو الگ الگ اور جدا جدا چیزیں ہیں ۔
{3}…یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں ۔
مصنف کا موقف:
	شیخ ابو طالب مکی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے اس مسئلے پر بہت گنجلک اور طویل کلام فرمایا ہے۔ لیکن ہم لاحاصل گفتگو سے صرفِ نظر کرتے ہوئے امرِ حق کو وضاحت وصراحت کے ساتھ بیان کریں گے۔ ہمارے اختیار کردہ موقف کے مطابق اس مسئلہ کی تین ابحاث ہیں :(۱)…ان دونوں کا لغوی معنی کیاہے۔(۲)…شرعی طور پر ان سے کیا مراد ہے۔ (۳)…ان کا دنیوی واخروی حکم کیا ہے؟ پہلی بحث کو لغوی،دوسری کو تفسیری اور تیسری کو فقہی شرعی کہیں گے۔
پہلی بحث:					لُغوی معنی کا بیان
	ایمان دراصل، تصدیق کا نام ہے۔ جیسا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا   (پ۱۲،یوسف:۱۷)	ترجمۂ کنز الایمان:اور آپ کسی طرح ہمارایقین نہ کریں گے۔
	اس آیت مبارَکہ میں مومن بمعنی مصدِّق (یعنی تصدیق کرنے والا)  استعمال ہوا ہے۔
	اور اسلام کا معنی ہے: ماننا اور دل سے قبول واطاعت پر سرِتسلیم خم کرنا۔ نیز سرکشی، انکار اور مخالفت کو ترک کرنا۔ تصدیق کا مقام دل ہے اور زبان اس کی ترجمان۔ جبکہ ماننا عام ہے دل، زبان اور دیگراعضاء سب کے ساتھ ہوتا