عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیۡنَ﴿۱۳۳﴾ۙ
کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان وزمین آجائیں پرہیزگاروں کے لئے تیار رکھی ہے۔ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۳۳)
مذکورہ آیت میں لفظ (اُعِدَّتْ بمعنی تیار رکھنا) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جنت وجہنم پیدا کی جا چکیں ہیں ۔ ان الفاظ کے ظاہری معنی مراد لینے میں کوئی محال لازم نہیں آتا، لہٰذا اس کے ظاہر پر عمل کرنا واجب ہے۔
{7}…خلافت کابیان:خلافت پر کسی کو فائز کرنے کے متعلق مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کوئی واضح اور یقینی روایت منقول نہیں ، ورنہ معاملۂ خلافت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مختلف شہروں اور لشکروں پر مقرر کردہ گورنر وامرا کے معاملات جو کسی پر پوشیدہ نہیں ہیں ، سے بھی زیادہ واضح ہوتا، لہٰذا اس کا مخفی رہنا کیسے ممکن ہوا؟ اور اگر مسئلہ خلافت ظاہر تھا تو چھپا کیسے کہ ہمیں معلوم تک نہ ہو سکا۔
جہاں تک امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے خلیفہ بننے کا معاملہ ہے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے انتخاب اور بیعت سے اس مسند پر فائز ہوئے۔ اگر کوئی جری کسی اور صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے خلافت کی نص گھڑنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اجماعِ صحابہ کا مخالف اور ان تمام (انتخاب وبیعت کرنے والے) صحابۂ کرام عَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان پر شاہِ خیر الانام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مخالفت کا الزام لگانے والا ہے اور ایسی جرأَتِ بد روافض کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔
اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن مقامِ تقویٰ کی بلندیوں پر فائز اور اس تعریف کے مستحق ہیں جو خدا ورسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے حق میں بیان فرمائی۔
{8}…فضیلت صحابہ بترتیب خلافت:ان نفوسِ قدسیہ کی فضیلت اوراس میں بھی ترتیب کی باریکیاں وہی حضرات جانتے تھے جنہوں نے وحی اور نزولِ قرآن کا مشاہدہ کیااور احوال کی مناسبت سے فضیلت کی باریکیوں کو پا لیا ۔ اگریہ حضرات اس ترتیب وفضیلت کی سمجھ نہ پاتے تو کبھی بھی حقِ خلافت کی مذکورہ ترتیب قائم نہ کرتے کیونکہ ان نفوسِ قدسیہ کو امورِ دینیہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوتی اور نہ ہی انہیں کوئی راہِ حق سے ہٹا سکتا ہے۔
{9}…حق خلافت کی پانچ شرائط:مسلمان اور مُکَلَّف(عاقل، بالغ، آزاد) ہونے کے بعد حقِ خلافت کی پانچ شرائط